١٤١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث (عن عطاء) (١) وطاوس ومجاهد قالوا (٢): (الحج والعمرة فريضتان) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
١٤١٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر (عن ليث) (١) عن عطاء [وطاوس (و) (٢) مجاهد قالوا: واجبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ واجب (فرض) ہے۔
١٤١٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر] (١) عن (ابن) (٢) (جريج) (٣) عن نافع عن ابن عمر قال: ليس من خلق اللَّه أحد إلا وعليه حجة وعمرة واجبتان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایک شخص کو بھی پیدا نہیں فرمایا مگر اس پر حج وعمرہ کو فرض کیا۔
١٤١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن عبد الملك قال: سئل سعيد بن جبير عن العمرة واجبة هي؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ عمرہ کرنا فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
١٤١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن (جريج) (١) قال: سئل سعيد بن جبير وعلي بن حسين عن العمرة: أواجبة هي؟ فتلوا هذه الآية: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین سے دریافت کیا گیا کہ عمرہ کرنا فرض ہے ؟ تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی، { وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ }۔
١٤١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن داود قال: سألت عطاء فقلت: العمرة فريضة؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ عمرہ کرنا فر ض ہے ؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔
١٤١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير ووكيع عن فضيل بن غزوان عن عكرمة عن ابن عباس قال: العمرة (الحج الأصغر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ عمرہ چھوٹا حج ہے۔
١٤١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن محمد عن زيد بن ثابت في الذي يعتمر قبل أن يحج، قال: نسكان للَّه عليك، لا يضرك بأيهما بدأت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حج سے پہلے عمرہ کرلے، فرماتے ہیں اللہ کے تجھ پر دو فرض ہیں (حج وعمرہ) جس سے چاہے ابتدا کرلے کوئی نقصان وحرج نہیں۔
١٤١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن مسروق قال: (أمرتم) (٢) بإقامة الحج والعمرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ تمہیں حج وعمرہ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
١٤١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن (الحسن) (١) وابن سيرين قالا: الحج والعمرة فريضتان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
١٤١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن (الحسن) (١) (٢) قال: العمرة واجبة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ عمرہ کرنا فرض ہے۔
١٤١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: سألت عبد اللَّه بن شداد عن الحج الأكبر فقال: (الحج الأكبر يوم النحر، والحج الأصغر) (١) العمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ سے حج اکبر کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا یوم النحر حج اکبر ہے اور عمرہ حج اصغر ہے۔
١٤١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد قال: كان يقال: العمرة هي الحجة الصغرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ عمرہ کرنا چھوٹا حج ہے۔
١٤١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن التيمي عن (حيان) (١) ابن عمير عن ابن عباس قال: نسكان للَّه عليك، (ولا) (٢) يضرك بأيهما بدأت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کے تجھ پر دو فرض ہیں، جس سے چاہے پہل کر کوئی نقصان نہیں۔
١٤١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) يحيى بن يعلى عن منصور عن مجاهد قال: العمرة الحج الأصغر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں عمرہ حج اصغر ہے۔