١٣٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد أنهم قالوا: لا يؤكل من الفدية ولا من جزاء الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرم فدیہ اور شکار کی جزاء میں سے نہیں کھائے گا۔
١٣٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول: إذا (أعطبت) (٢) البدنة أو كسرت أكل (منها) (٣) صاحبها (وأطعم) (٤) ولم يبدلها إلا أن يكون نذرًا أو جزاء صيد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اگر اونٹ راستے میں تھک جائے یا اس کا پاؤں ٹوٹ جائے تو اس کا مالک اس میں سے خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر اس کا بدل لازم نہیں ہے، ہاں اگر وہ نذر یا شکار کے بدلے کا جانور ہو تو پھر اگر کھالیا تو بدل لازم آئے گا۔
١٣٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك عن عطاء قال: ما كان من جزاء صيد أو نسك أو نذر (للمساكين) (١)، فإنه لا يأكل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو جانور شکار کی جزاء ہو یا قربانی کے لیے یا مساکین کے لیے نذر ہو تو اس میں سے خود نہیں کھائے گا۔
١٣٦٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: لا يأكل من [جزاء الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ شکار کے جزاء میں دی جانے والی قربانی میں سے خود نہیں کھائے گا۔
١٣٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سالم عن سعيد بن جبير قال: لا يؤكل من] (١) النذر ولا من الكفارة ولا مما جعل للمساكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ جو قربانی نذر کی ہو یا کفارہ کی ہو یا مساکین کے لیے ہو اس میں سے خود نہ کھائے۔
١٣٦٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أشعث عن الحكم قال: (قال) (١) علي: لا يؤكل من النذر ولا من جزاء الصيد ولا مما جعل للمساكين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
١٣٦٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا حماد بن سلمة عن قيس بن سعد عن عطاء عن ابن عباس قال: لا (تأكل) (١) من جزاء الصيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شکار کرنے کے بدلے جو قربانی کی جائے اس میں سے خود نہ کھائے۔