کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ پسند کرتے ہیں کہ نماز کے بعد احرام باندھا جائے
١٣١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد السلام عن خصيف عن (سعيد بن جبير) (١) عن ابن عباس أن النبي ﷺ أحرم دبر الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے (فوراً ) بعد احرام باندھا۔
١٣١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن عمرو عن الحسن أن النبي ﷺ أحرم دبر صلاة الظهر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر کے بعد احرام باندھا اور حسن بھی نماز ظہر کے بعد احرام باندھنے کو پسند کرتے تھے، اور اگر کوئی شخص نماز ظہر کے بعد احرام نہ باندھ سکے وہ نماز عصر کے بعد باندھ لے۔
١٣١٨٠ - وكان الحسن يستحب أن يحرم دبر الظهر (فإن لم يفعل) (١) ففي دبر صلاة] (٢) العصر (٣).
١٣١٨١ - حدثنا (أبو بكر قال: ثنا) (١) أبو خالد عن ابن جريج عن ابن سابط قال: كان (سلفك) (٢) يستحب (٣) التلبية في أربعة مواضع: في دبر الصلاة، وإذا ⦗٤٢٧⦘ هبطوا واديًا (أو) (٤) علوه وعند (انضمام) (٥) (الرفاق) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں تمہارے سلف صالحین چار جگہوں پر تلبیہ پڑھنا پسند کرتے تھے نماز کے بعد، جب کسی وادی میں اترتے یا وادی سے چڑھتے اور جب ساتھیوں کی جماعت کے ساتھ ملتے۔
١٣١٨٢ - حدثنا أبو بكر (قال: ثنا) (١) (جرير) (٢) عن مغيرة عن إبراهيم قال: يستحب التلبية في مواطن: في دبر الصلاة المكتوبة، وحين (يصعد) (٣) شرفًا، وحين (يهبط) (٤) واديًا، وكلما استوى (بك) (٥) بعيرك قائمًا، وكلما لقيت رفقة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ چند جگہوں اور موقعوں پر تلبیہ پڑھنا مستحب ہے فرض نماز کے بعد، جب آپ کسی بلندی پر چڑھیں اور جب کسی وادی میں اتریں اور جب بھی آپ کے ساتھ آپ کا اونٹ برابر ہو کھڑے ہونے کی حالت میں اور آپ اس پر سوار ہونے لگے جب بھی آپ کی جماعت کے ساتھ ملاقات ہو۔
١٣١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا شريك عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه أنه كان يحرم في دبر الصلاة المكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرض نماز کے بعد احرام باندھا کرتے تھے۔
١٣١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: كانوا يستحبون التلبية عند ست: دبر الصلاة، وإذا (استقلت) (٢) بالرجل راحلته، وإذا صعد شرفًا، وإذا هبط واديًا، وإذا لقي بعضهم بعضًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام چھ موقعوں پر تلبیہ پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے، نماز کے بعدجب سواری پر آپ سوار ہونے لگو اور جب کسی بلند جگہ پر چڑھو اور جب کسی وادی میں اترو اور جب ان میں سے بعض کی ملاقات بعض سے ہو۔
١٣١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) ابن فضيل عن عبد الملك قال: سألت ⦗٤٢٨⦘ عطاء عن التلبية إذا أراد الرجل (٢) يحرم قال: إن شئت ففي دبر الصلاة، وإن شئت فإذا (انبعثت) (٣) بك (النافة) (٤) (تبدأ) (٥) حين تركب (فتقول) (٦): ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كنا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [الزخرف: ١٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو وہ تلبیہ کب پڑھے ؟ آپ نے فرمایا اگر چاہے تو فرض نماز کے بعد، اور اگر چاہے تو جب اس کی سواری لائے جائے اور جب آپ سوار ہونے لگے تو ابتداء کرو اور یوں کہو : { سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ }۔
١٣١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن (حيان) (١) (عن) (٢) أبي الشعثاء (٣) جابر بن زيد قال: (إن) (٤) كان بعضهم (ليحرم) (٥) وهو راكب، وإن كان بعضهم (ليحرم) (٦) وهو يأكل.
١٣١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (أبو) (١) عامر العقدي عن أفلح قال: كان القاسم يلبي دبر (كل) (٢) صلاة تطوع وفريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم ہر نماز کے بعد خواہ وہ فرض ہوتی یا نفل تلبیہ پڑھتے۔