کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی مرد یا عورت حج کرنے کی نذر مانے لیکن اس نے پہلے نہ حج کیا ہوا ہو
١٣١٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن زيد بن جبير قال: كنت عند ابن عمر قاعدًا، (فأتته) (١) امرأة، فقالت: إني نذرت أن أحج ولم أحج قبل ⦗٤٢٤⦘ هذه الحجة قط، قال: هذه (حجة الإسلام) (٢) (فالتمسي) (٣) ما توفين به (عن) (٤) نذرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ کے پاس ایک خاتون آئی اور اس نے عرض کیا : میں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن میں نے اس حج سے پہلے کبھی حج نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا : یہ اسلام کا حج ہے پس تو اس چیز کی طرف متوجہ ہو جو تیری نذر پوری کر دے۔
١٣١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن هشام عن واصل مولى أبي عيينة قال: حدثني (شيخ) (١) سمع ابن عباس وأتته امرأة، (فقالت) (٢): إني نذرت أن أحج ولم أحج (حجة) (٣) الإسلام؟ فقال ابن عباس: (قضيتهما) (٤) ورب الكعبة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عورت نے آ کر دریافت کیا میں نے نذر مانی تھی کہ میں حج کروں گی اور میں نے اسلام کا حج ابھی تک نہیں کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : رب کعبہ کی قسم تو نے دونوں کو ادا کردیا۔
١٣١٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الوهاب عن خالد عن عكرمة أن رجلًا نذر أن يحج ولم يحج قال: يجزئ عنه الفريضة والنذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے حج کرنے کی نذر مانی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہوا، آپ نے فرمایا : اس کے فرض حج اور نذر کی طرف سے وہ ایک حج ہی کافی ہوجائے گا۔
١٣١٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد في رجل كانت عليه يمين في الحج ولم يحج حجة الإسلام، (فيسر) (١) له الحج، قال: يجزئ منهما، فإن قدر على شيء فليحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حج کرنے کی قسم اٹھائی ہے اور اس نے (ایک دفعہ) اسلام کا حج ابھی تک نہ کیا ہو پھر اس کو حج کا موقع مل جائے تو وہ ایک حج دونوں کی طرف سے ادا ہوجائے گا، پھر بعد میں اگر وہ کسی چیز پر قادر ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ دوبارہ حج کرلے۔
١٣١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن (أبي) (١) الربيع عن سعيد ابن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس کے ذمہ اسلام کا حج اور نذر بھی ہو اور وہ (ایک دفعہ) اسلام کا حج ادا کرلے تو وہ دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
١٣١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن ابن جريج عن عطاء (قال) (١) له رجل: (إن) (٢) علي نذرًا بالحج ولم (أحج) (٣) حجة الإسلام فأيهما أبدأ؟ قال: ابدأ بحجة الإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں نے حج ادا کرنے کی نذر مانی ہے لیکن میں نے ابھی تک اسلام کا حج نہیں کیا ہوا، تو میں پہلے کون سا حج ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اسلام کے حج سے ابتداء کرو۔
١٣١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن أبي سليمان قال: سمعت (أنسًا) (١) يقول في رجل نذر أن يحج (ولم يحج) (٢) قال: (يبدأ) (٣) بالفريضة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو فرماتے ہوئے سنا ایک شخص نے حج ادا کرنے کی نذر مانی ہے اور اس نے ابھی تک اسلام کا ایک دفعہ کا حج ادا نہیں کیا ہوا تو وہ فرض حج سے ابتداء کرے۔