کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مصارف زکوٰۃ میں سے کسی ایک مصرف کو پوری زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان
١٠٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص وأبو معاوية عن (حجاج) (١) عن ⦗٣١٤⦘ المنهال (عن زر) (٢) عن (حذيفة) (٣) قال: (إذا) (٤) أعطاها في صنف واحد من الأصناف الثمانية التي سمى اللَّه (تعالى) (٥) (أجزأه) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ آٹھ مصارف زکوٰۃ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں کسی ایک مصرف کو زکوٰۃ دینا بھی کافی ہے۔
١٠٧٣٩ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى [عن الحكم قال: قال حذيفة: إذا وضعت في أي الاصناف شئت أجزأك إذا لم تجد غيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس مرضی مصرف کو زکوٰۃ ادا کرنا چاہے تو کرسکتا ہے جب تو اس کے علاوہ کسی اور کو نہ پائے۔
١٠٧٤٠ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى] (١) أو غيره عن المنهال عن (زر) (٢) عن حذيفة قال: إن جعلها في صنف واحد أجزأه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آپ کسی ایک مصرف کو زکوٰۃ ادا کردیں تو یہ آپ کی طرف سے کافی ہے۔
١٠٧٤١ - حدثنا حفص عن ليث عن عطاء أن عمر كان يأخذ العرض في الصدقة ويعطيها في صنف واحد مما سمى اللَّه (تعالى) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق زکوٰۃ میں سامان وصول فرمایا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو مصارف زکوٰۃ بیان فرمائے ہیں ان میں سے کسی کو دے دیا کرتے تھے۔
١٠٧٤٢ - حدثنا جرير عن عطاء عن سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مصارف زکوٰۃ بیان فرمائے ہیں ان میں سے کسی ایک مصرف کو دے دینا آپ کیلئے کافی ہے۔
١٠٧٤٣ - (و) (١) عن مغيرة (عن) (٢) إبراهيم (قالا) (٣): يجزئك أن تضع الصدقة في صنف من الأصناف التي سمى اللَّه (تعالى) (٤).
١٠٧٤٤ - حدثنا وكيع (بن) (١) الجراح عن أبي جعفر عن الربيع عن أبي العالية قال: لا بأس أن (تجعلها) (٢) في صنف واحد (مما) (٣) قال اللَّه (تعالى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مصارف بیان فرمائے ہیں ان میں سے کسی ایک کو دے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٠٧٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عطاء قال: سألته أعطي الصدقة في صنف واحد من الأصناف الثمانية قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ آٹھ مصارف میں سے کسی ایک مصرف کو ہی زکوٰۃ دے سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔
١٠٧٤٦ - حدثنا وكيع عن يزيد عن الحسن قال: لا بأس أن (تجعلها) (١) في صنف واحد من (الأصناف) (٢) (الثمانية) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آٹھ مصارف میں سے کسی ایک مصرف کو زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٠٧٤٧ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: لا بأس أن (تجعلها) (١) في [صنف واحد مما سمى اللَّه (تعالى) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مصارف مقرر فرمائے ہیں ان میں سے کسی ایک کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٠٧٤٨ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حميد عن عكرمة قال: (صرفها) (١) في (الأصناف) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ (بہتر ہے کہ) تو زکوٰۃ تمام مصارف کو دے اور حسن فرماتے ہیں کہ جس کو مرضی دے دو کافی ہے۔ (سب کو دینا ضروری نہیں ہے) ۔
١٠٧٥٠ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن ميمون قال: سمعته يقول: لو وضعت الزكاة في هذين الصنفين: (الفقراء) (١) والمساكين لرأيت أن ذلك (يجزئ عني) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمون سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں دو مصارف فقراء اور مساکین کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو میں دیکھتا ہوں کہ یہ میری طرف سے کافی ہے۔