کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات سفر میں روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے
٩٢٢٠ - حدثنا أبو معاوية ومروان بن معاوية عن عاصم قال: سئل أنس عن الصوم في السفر فقال: من أفطر فرخصة ومن صام فالصوم أفضل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے دورانِ سفرروزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو روزہ نہ رکھے اس کے لئے رخصت ہے اور اگر کوئی روزہ رکھے تو یہ افضل ہے۔
٩٢٢١ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن ابن أبي مليكة قال: صحبت عائشة في السفر فما أفطرت حتى دخلت مكة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا۔ انہوں نے مدینہ پہنچنے تک روزے نہیں رکھے۔
٩٢٢٢ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن الحكم بن عطية عن النضر بن عبد اللَّه (القيسي) (١) عن قيس بن عباد أنه كان يصوم في السفر ويفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن عبد اللہ قیسی فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد سفر میں روزہ رکھتے تھے اور کبھی نہ بھی رکھتے تھے۔
٩٢٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن موسى مولى ابن عامر (١) قال: سألت أنسًا عن الصوم في السفر فقال: كنا مع أبي موسى في السفر فصام و (صمنا) (٢) (معه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ مولی ابی عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے سفر میں روزے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے انہوں نے روزہ رکھا تو ہم نے بھی روزہ رکھا۔
٩٢٢٤ - حدثنا وكيع عن ابن أبي خالد عن ابن الأسود أن أباه كان يصوم في السفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اسود فرماتے ہیں کہ ان کے والد سفر میں ر وزہ رکھا کرتے تھے۔
٩٢٢٥ - [حدثنا أزهر عن بن عون قال: كان محمد يصوم في السفر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
٩٢٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن القاسم قال: قد رأيت عائشة تصوم في السفر حتى أذلقها (١) السموم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں روزہ رکھا کرتی تھیں جس کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھیں۔
٩٢٢٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن عاصم عن ابن سيرين قال: كان عثمان بن أبي (العاص) (١) يقول في ذلك مثل قول أنس بن مالك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرح فرماتے ہیں۔
٩٢٢٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان يخرج إلى (الغابة) (١) فلا يفطر ولا يقصر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کبھی صحراء کی طرف نکلتے تو روزہ نہ چھوڑتے تھے اور نماز بھی پوری پڑھتے تھے۔
٩٢٢٩ - حدثنا أبو أسامة عن أشعث عن ابن سيرين أن عثمان بن أبي (العاص) (١) قال: الصوم في السفر أفضل والفطر رخصة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے۔
٩٢٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن (كهمس) (١) قال: سئل سالم أو سألته عن الصوم في السفر فقال: إن صمتم فقد أجزأ عنكم وإن أفطرتم فقد رخص لكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کھمس کہتے ہیں کہ حضرت سالم سے سفر میں روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر روزہ رکھ لو تو تمہارے لئے اچھا ہے اور اگر روزہ نہ رکھو تو اس کی بھی رخصت موجود ہے۔
٩٢٣١ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام عن أبيه عن عائشة أن حمزة الأسلمي سأل رسول اللَّه ﷺ عن الصوم في السفر فقال: "صم إن شئت (وأفطر إن شئت) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حمزہ اسلمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دورانِ سفر روزے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔
٩٢٣٢ - حدثنا سهل بن يوسف عن العوام قال: قلت لمجاهد: أي ذلك أعجب إليك؟ قال: إذا كنت تطيق الصوم فالصوم أعجب إليَّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے پوچھا کہ سفر میں روزہ رکھنا زیادہ بہتر ہے یا روزہ چھوڑنا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو میرے خیال میں روزہ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔
٩٢٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي الشعثاء قال: صحبت أبي (و) (١) عمرو ابن ميمون والأسود بن يزيد وأبا وائل فكانوا يصومون رمضان وغيره في السفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث بن ابی شعثاء فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد حضرت ابو شعثاء اور حضرت عمرو بن میمون، اسود بن یزید اور ابو وائل کے ساتھ رہا ہوں۔ یہ سب حضرات دوران سفر رمضان کے اور دوسرے روزے رکھا کرتے تھے۔
٩٢٣٤ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن عمران بن مسلم عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: استأذنت حذيفة (بالمدائن) (٢) فقال لي حذيفة (بشرط) (٣) عليَّ أن لا تقصر ولا تفطر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدائن میں تھا۔ میں نے ان سے واپس اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے فرمایا کہ اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ تم نہ نماز میں قصر کرو گے اور نہ ہی روزہ چھوڑو گے۔