کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر نماز اور کھانا ایک ہی وقت میں آجا ئیں تو کس سے ابتداء کرے؟
٨١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا حضرت الصلاة ووضع العشاء فابدؤوا بالعشاء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے اور دوسری طرف کھانا رکھ دیا جائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أنس (أن) (١) النبي ﷺ قال: "إذا حضر العشاء وأقيمت الصلاة فابدؤوا بالعشاء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کھانا آجائے اور دوسری طرف نماز کا وقت ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٢٨ - حدثنا ابن علية عن محمد بن إسحاق قال: ثنا عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة (قالت) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا حضر العشاء وحضرت الصلاة فابدؤوا بالعشاء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کھانا آجائے اور دوسری طرف نماز کا وقت ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٢٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدؤوا بالعَشاء ⦗٢١١⦘ (فلا) (٢) يعجلن حتى يفرغ منه"، قال نافع: وكان ابن عمر يوضع له الطعام فتقام الصلاة فلا يأتيها حتى يفرغ وأنه (يسمع) (٣) قراءة (الإمام) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہارے لئے کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو اور کھانے سے فارغ ہونے میں جلدی نہ کرو۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لئے کھانا رکھ دیا جاتا اور دوسری طرف نماز کھڑی ہوجاتی تو کھانے سے فارغ ہونے تک نماز کے لئے نہیں جاتے تھے۔ اگرچہ اس دوران وہ امام کی قراءت سن رہے ہوتے تھے۔
٨١٣٠ - حدثنا هاشم بن القاسم عن أيوب (بن) (١) عتبة عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا (حضرت) الصلاة والعشاء فابدؤوا بالعشاء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ کے والد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے اور دوسری طرف کھانا رکھ دیا جائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٣١ - حدثنا (هشيم) (١) عن سفيان (بن) (٢) حسين عن الزهري عن أنس ابن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا (حضر) (٣) العَشاء والصلاة فابدؤوا بالعشاء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کھانا آجائے اور دوسری طرف نماز کا وقت ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٣٢ - حدثنا هشيم قال: نا حميد عن أنس بن مالك مثل ذلك ولم يذكر النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے لیکن اس میں یہ قول نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں۔
٨١٣٣ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن أبي قلابة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا حضر العشاء وأقيمت الصلاة فابدؤوا بالعشاء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کھانا آجائے اور دوسری طرف نماز کا وقت ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٣٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس (بن مالك) (١) (٢) قال: كنا على طعام لنا وحضرت الصلاة فحبسني أبو طلحة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کھانا کھا رہے تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت ابوطلحہ نے مجھے کھانے کے لئے روکے رکھا۔
٨١٣٥ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن ابن لأبي المليح عن أبيه قال: كنا مع أبي بكر، وقد خرج لصلاة المغرب وأذن المؤذن فتلقي بقصعة فيها ثريد ولحم فقال: اجلسوا فكلوا، فإنما صنع الطعام ليؤكل، فأكل ثم (دعا بماء) (١) فغسل أطراف أصابعه ومضمض وصلى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ملیح فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر کے ساتھ تھے، وہ مغرب کی نماز کے لئے نکلنے لگے اور مؤذن اذان دے چکا تھا۔ اتنے میں ثرید اور گوشت کا ایک پیالہ لایا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ بیٹھ کر اسے کھالو کیونکہ کھانا اسی لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اسے کھایا جائے۔ انہوں نے بھی اس میں سے کھایا اور پھر پانی منگوا کر اپنے ہاتھوں کو اس سے دھویا اور پھر کلی کرکے نماز پڑھی۔
٨١٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن أبي عاصم (١) علي بن عبيد اللَّه قال: دعانا يسار ابن نمير إلى (طعام) (٢) عند المغرب فقال: إن عمر بن الخطاب كان يقول: ابدؤوا بطعامكم ثم افرغوا لصلاتكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت یسار بن نمیر نے ہمیں مغرب کے وقت کھانے پر بلایا اور فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے کہ پہلے کھانا کھالو پھر نماز کے لئے فارغ ہوجاؤ۔
٨١٣٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي عاصم عن يسار بن نمير (قال) (١): قال عمر: إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدؤوا بالعشاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب کھانارکھ دیا جائے اور نماز کا وقت ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
٨١٣٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن (قنان) (١) بن عبد اللَّه (النهمي) (٢) عن أشياخ لهم قال: كنا عند علي وحضر الفطر في رمضان فقال لنا علي: افطروا فإنه أحسن لصلاتكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فنان بن عبد اللہ نہمی اپنے بزرگوں سے نقل کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ رمضان میں افطاری کا وقت ہوگیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ پہلے افطاری کرلو کیونکہ یہ تمہاری نماز کے لئے اچھا ہے۔
٨١٣٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق أن الحسن بن علي كان يقول: العشاء قبل الصلاة يذهب النفس اللوامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کھانے سے پہلے نماز پڑھ لینا نفس لوامہ کو بھگا دیتا ہے۔
٨١٤٠ - حدثنا وكيع عن شريك عن عثمان الثقفي عن رجل يقال له زياد قال: كنا عند ابن عباس (وشواء) (١) له في التنور وحضرت الصلاة فقلنا له، فقال: لا حتى نأكل لا يعرض لنا في صلاتنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے اور ان کے تنور میں کوئی چیز بھونی جارہی تھی۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا اور ہم نے انہیں نماز کے لئے چلنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں، ہم کھانا کھا کر جائیں گے تاکہ یہ کھانا نماز میں ہمیں تنگ نہ کرے۔
٨١٤١ - حدثنا جرير عن (يزيد) (١) عن عبد اللَّه بن الحارث قال: إذا جيء بعشائك ونودي بالصلاة فابدأ بالعشاء ثم الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ جب تمہارا کھانا آجائے اور نماز کے لیے اذان کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھاؤ پھر نماز پڑھو۔
٨١٤٢ - حدثنا شبابة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: قدمت من ⦗٢١٤⦘ العراق فقرب عشاء (أبي) (١) طلحة ومعه (من) (٢) شاء اللَّه من أصحاب النبي ﷺ فقال لي: هلم فكل، فقلت: حتى أصلي، فقال: قد أخذت بأخلاق أهل العراق هلم (فكل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عراق سے واپس آیا تو حضرت ابو طلحہ اور ان کے ساتھ موجود کچھ صحابہ کے پاس کھانا رکھا گیا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آؤ کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میں نماز پڑھ کرکھاؤں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے عراق والوں کی عادتیں اپنا لی ہیں آؤ کھانا کھاؤ۔