٨١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن الجريري عن عبد اللَّه بن بريدة قال: قال عبد اللَّه بن عمرو: ما أبالي كانا مصرورين في ناحية ثوبي (أو نازعاني) (١) في صلاتي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کہ بول وبراز میرے کپڑوں پر لگے ہوں یا نماز میں مجھے تنگ کررہے ہوں۔
٨١٤٤ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: قال عمر: لا تعالجوا الأخبثين في الصلاة الغائط والبول (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ نماز میں دو گندی چیزوں پیشاب وپاخانہ کا مقابلہ نہ کرو۔
٨١٤٥ - حدثنا هشيم عن أبي حرة عن الحسن عن عمر بنحو ذلك (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٨١٤٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن ابن عباس قال: لا (يصلي) (١) أحدكم وهو يدافع (الطوف) (٢): الغائط والبول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ بول وبراز سے مقابلہ کر رہا ہو۔
٨١٤٧ - حدثنا حفص عن ليث عن كثير عن سعيد بن جبير قال: ما أبالي دافعته أو صليت وهو في جانب ثوبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میرے لئے نماز میں پیشاب کو روکنا اور اس کا میرے کپڑوں پر لگا ہوا ہونا برابر ہے۔
٨١٤٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن معاوية بن صالح قال: حدثني السفر بن (نسير) (٢) الأسدي عن يزيد بن شريح الحضرمي أنه سمع أبا أمامة يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يأتي أحدكم الصلاة وهو حاقن حتى يتخفف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس حال میں نماز پڑھنے کے لئے نہ آئے کہ وہ پیشاب وپاخانہ کو روک رہاہویہاں تک کہ وہ ہلکا ہوجائے۔
٨١٤٩ - حدثنا أبو أسامة عن إدريس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا يقوم أحدكم إلى الصلاة وبه أذى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس حال میں نماز کے لئے کھڑا نہ ہو کہ اسے پیشاب وپاخانہ کی حاجت ہو۔
٨١٥٠ - حدثنا ابن نمير عن زمعة عن عثمان بن الزبير عن يحيى بن جعدة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يقرب الصلاة (الزناء) (١) "، قيل: يا رسول اللَّه وما ⦗٢١٦⦘ (الزناء) (٢)؟ قال: "الذي يجد (الرز) (٣) في بطنه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیشاب کو روکنے والا نماز کے قریب نہ جائے۔
٨١٥١ - حدثنا ابن علية عن سعيد بن (أبي) (١) صدقة عن يحيى بن عتيق عن ابن سيرين قال: يكره حبس الأذى (ما) (٢) لم [يخف (فوت) (٣)] (٤) الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین نماز کے فوت ہونے کا خوف نہ ہونے کی صورت میں پیشاب کے روکنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٨١٥٢ - حدثنا حفص عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه بن الأرقم قال. خرج معتمرًا مع أصحابه فأذن وأقام وقال لبعض أصحابه: تقدم إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا حضرت الصلاة وأحدكم يريد الخلاء (فابدؤوا) (١) بالخلاء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ارقم اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمرے کے ارادے سے نکلے، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آگے بڑھ کر نماز پڑھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز کا وقت ہوجائے اور تم میں سے کسی کو رفع حاجت کی ضرورت ہو تو پہلے رفع حاجت سے فارغ ہوجاؤ۔
٨١٥٣ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: سئل نافع عن الرجل يجد النفخة في بطنه قال: لا يصلي وهو يجد النفخة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی پیٹ میں ہوا محسوس کر رہا ہو تو کیا وہ نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پیٹ میں ہوا محسوس کرتے ہوئے نماز نہیں پڑھے گا۔
٨١٥٤ - حدثنا حسين بن علي عن (أبي حزرة) (١) شيخ من أهل المدينة وأثنى عليه خيرًا عن القاسم بن محمد قال: دخل بعض بني أخي عائشة إليها فقام إلى المسجد فقالت له: اجلس إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا يصلي أحدكم بحضرة طعام، ولا هو يدافع الأخبثين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک بھتیجا ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ مسجد جانے لگا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی کھانے کی موجودگی اور پیشاب وپاخانہ کے مقابلہ کی حالت میں نماز نہ پڑھے۔
٨١٥٥ - حدثنا معتمر عن أبيه عن عكرمة قال: لأن أصره في عمامتي ثم أقوم إلى الصلاة، أحب إلي من أن أدافعه وأنا أصلي، يعني الغائط والبول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے عمامہ میں رفع حاجت کرلوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کا مقابلہ کرتے ہوئے نماز پڑھوں۔
٨١٥٦ - حدثنا معتمر عن أبيه عن بكر قال: لأن أهريق الماء (وأتيمم) (١) (٢) وأصلي أحب إلي من أن أصلي وأنا أدافع غائطًا أو بولًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ میں پیشاب کرکے استنجاء کروں اور نماز پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں نماز میں پیشاب وپاخانہ کا مقابلہ کروں۔