٧٦٢٠ - حدثنا أبو بكر، قال: ثنا جرير عن مغيرة، قال: كان أبو وائل يرسل ⦗٩١⦘ (خادمه) (١) وهي حائض إلى أبي رزين، فتأتيه بالمصحف من عنده فتمسك بعلاقته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل اپنی خادمہ کو حضرت ابو رزین کے پاس بھیجتے، وہ ان کے پاس سے مصحف اٹھاکر لاتی اور اسے اس کے غلاف سے پکڑا کرتی تھی۔
٧٦٢١ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن، قال: لا بأس (أن) (١) يتناول الرجل المصحف إذا كان في وعائه أو (في علاقته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی قرآن مجید کو اس کے تھیلے یا غلاف کے ساتھ پکڑے۔
٧٦٢٢ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن أبي خالد الدالاني عن القاسم يعني الأعرج، قال: رأيت سعيد بن جبير قرأ في المصحف، ثم ناول غلامًا له مجوسيًا بعلاقته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو دیکھا کہ مصحف سے پڑھ رہے تھے، پھر انہوں نے اس غلاف کے ساتھ اپنے ایک مجوسی غلام کو تھما دیا۔
٧٦٢٣ - حدثنا وكيع عن أيمن بن (نابل) (١) قال: سمعت عطاء يقول: لا بأس أن تأخذ الحائض بعلاقة المصحف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حائضہ مصحف کو اس کے غلاف کے ساتھ پکڑ سکتی ہے۔
٧٦٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد أنه لم يكن يرى بأسا أن (يحول) (١) الرجل المصحف وهو غير طاهر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی بےوضو ہونے کی حالت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگائے۔
٧٦٢٥ - حدثنا وكيع عن (علي) (١) بن صالح عن غالب أبي الهذيل، قال: أمرني أبو رزين أن أفتح المصحف على غير وضوء، فسألت إبراهيم فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ مجھے ابو رزین نے بےوضو ہونے کی حالت میں قرآن مجید کھولنے کا حکم دیا۔ میں نے اس بارے میں حضر ت ابراہیم سے سوال کیا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔
٧٦٢٦ - حدثنا ابن نمير، قال: (نا) (١) عبيد اللَّه بن عمر عن (نافع عن) (٢) ابن ⦗٩٢⦘ عمر أنه كان لا يمس المصحف إلا وهو طاهر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قرآن مجید کو بغیر وضو کے ہاتھ نہ لگاتے تھے۔
٧٦٢٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه كان لا يرى (به) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن مجید کو بغیروضو چھونے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٧٦٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر قال: سألت عامرًا عن مس المصحف على غير وضوء، فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ محمد بن علی، عبدا لرحمن بن اسود ، قاسم، سالم اور طاوس سے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔