٧١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يقنت إلا في النصف يعني من رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صرف نصف رمضان کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١١٣ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن نافع عن ابن عمر بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٧١١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي أنه كان يقنت في النصف من رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نصف رمضان کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١١٥ - حدثنا (محمد) (١) بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن أن أبيا أمَّ الناس في خلافة عمر فصلى بهم النصف من رمضان لا يقنت، فلما مضى النصف قنت بعد الركوع، فلما (دخلت) (٢) العشر (أبق) (٣) وخلى عنهم فصلى بهم العشر معاذ القارئ في خلافة عمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابی نے حضرت عمر کے زمانۂ خلافت میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ انہوں نے نصف رمضان تک نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھی، جب نصف رمضان گذر گیا تو انہوں نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ جب آخری عشرہ داخل ہوا تو وہ چلے گئے اور لوگوں سے علیحدگی اختیار فرمالی۔ پھر حضرت عمر کی خلافت میں حضرت معاذ القاری آخری عشرے میں انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٧١١٦ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: القنوت في شهر رمضان قال: عمر أول من قنت (١). - قلت: النصف (الآخر أجمع) (٢) قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے رمضان میں قنوت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نصف رمضان کے بعد سب سے پہلے حضرت عمر نے قنوت پڑھی تھی۔ میں نے کہا کہ رمضان کے نصف آخر میں اس کا زیادہ اہتمام ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
٧١١٧ - حدثنا وكيع عن عباد بن راشد عن الحسن أنه كان يقنت في النصف من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن راشد فرماتے ہیں کہ حسن نصف رمضان کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١١٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن المهلب بن (أبي) (١) حبيبة (قال) (٢): سألت سعيد بن أبي الحسن عن القنوت فقال: في النصف من رمضان كذلك علمنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہلب بن ابی حبیبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن ابی الحسن سے قنوت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا رمضان کے نصف کے بعد دعائے قنوت پڑھی جائے گی اور ہمیں یہی بات سکھائی گئی ہے۔
٧١١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن يحيى قال: كان يصلي ولا يقنت في الوتر حتى النصف، يعني: من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ یحییٰ وتروں میں نصف رمضان کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١٢٠ - حدثنا أزهر السمان عن ابن عون عن إبراهيم أنه كان يقول: القنوت في السنة كلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ وتروں میں پورا سال قنوت پڑھناسنت ہے۔ حضرت ابن سیرین صرف نصف رمضان کے بعد وتروں میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے۔
٧١٢٢ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن أن عمر (حيث) (١) أمر أبيا أن يصلي بالناس في رمضان، (وأمره) (٢) أن يقنت بهم في النصف الباقي ليلة ست عشرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر نے حضرت ابی کو رمضان میں لوگوں کو تراویح پڑھانے کا حکم دیا تو ان سے فرمایا کہ نصف رمضان کے بعد سولہویں رمضان کی رات سے لوگوں کو دعائے قنوت بھی پڑھائیں۔ حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر امام ہو تو نصف رمضان کے بعد دعائے قنوت پڑھے۔ اگر امام نہ ہو تو پورا رمضان دعائے قنوت پڑھے۔
٧١٢٣ - (قال: و) (١) كان الحسن يقول: إذا كان إماما قنت في النصف وإذا لم يكن إماما قنت الشهر كله.
٧١٢٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: ⦗٥٢٣⦘ (كان) (١) عبد اللَّه لا يقنت السنة كلها في الفجر ويقنت في الوتر كل ليلة قبل الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ فجر میں پورا سال دعائے قنوت نہیں پڑھتے تھے اور وتروں میں پورا سال رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک بھی یونہی ہے۔