٦٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عمارة بن (عمير) (١) عن يحيى بن الجزار عن عائشة (قالت) (٢): كان رسول اللَّه ﷺ يوتر بتسع فلما أسنّ وثقل أوتر بسبع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعات وتر پڑھا کرتے تھے جب آپ کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ کمزور ہوگئے تو آپ سات رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
٦٩٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن (مرة) (١) عن يحيى بن الجزار عن أم سلمة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يوتر بثلاث عشرة (٢) فلما كبر وضعف (أوتر بسبع) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ رکعات وتر پڑھا کرتے تھے، جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی اور آپ کمزور ہوگئے تو سات رکعات پڑھا کرتے تھے۔
٦٩٩٤ - حدثنا (١) هشيم (عن) (٢) أبي بشر عن سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعات وتر پڑھا کرتے تھے ، جب آپ کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو آپ سات رکعات وتر ادا فرماتے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے۔
٦٩٩٥ - قال: هشيم وأخبرنا منصور عن الحسن قالا: كان (رسول اللَّه) (١) ﷺ يوتر بتسع ركعات فلما أسنّ وبدن أوتر بسبع وركعتين وهو جالس (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعات وتر پڑھا کرتے تھے ، جب آپ کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو آپ سات رکعات وتر ادا فرماتے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے۔
٦٩٩٦ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن (ابن) (١) يزيد قال: قال عبد اللَّه: الوتر ثلاث ركعات كصلاة المغرب] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مغرب کی نماز کی طرح وتر کی دو رکعتیں ہیں۔
٦٩٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (قال) (١) ذكرت ⦗٤٩٤⦘ (لسعيد) (٢) ابن جبير قول عبد اللَّه الوتر بسبع أو (بخمس ولا) (٣) أقل من ثلاث (فقال) (٤) سعيد: قال ابن عباس: إني لأكره أن (يكون) (٥) ثلاث بتر ولكن سبعًا أو خمسًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے سامنے حضرت عبد اللہ کے اس قول کا ذکر کیا ” وتر سات یا پانچ ہیں یا پھر یہ تین سے کم نہیں “ اس پر حضرت سعید نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اس بات کو مکروہ سمجھتا ہوں کہ نامکمل تین رکعتں ی پڑھی جائیں۔ بلکہ وتر سات یا پانچ رکعت ہونے چاہئیں۔
٦٩٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن ابن (جريج) (١) عن إسماعيل بن محمد بن (سعيد) (٢) عن ابن السباق أن عمر دفن أبا بكر ليلًا ثم دخل المسجد فأوتر بثلاث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سباق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رات کے وقت حضرت ابوبکر کو دفن کیا اور پھر مسجد میں داخل ہوکر تین رکعات وتر پڑھی۔
٦٩٩٩ - حدثنا يعلى بن عبيد عن عثمان بن حكيم عن إسماعيل بن زيد قال: (كان) (١) زيد بن ثابت يوتر بخمس ركعات لا ينصرف فيها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن زید فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت پانچ رکعات وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام نہیں پھیرتے تھے۔
٧٠٠٠ - حدثنا هشيم عن حميد عن أنس أنه كان يوتر بثلاث ركعات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
٧٠٠١ - [حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد الملك بن ⦗٤٩٥⦘ عمير قال: كان ابن مسعود يوتر بثلاث] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
٧٠٠٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان عن أبي عبد الرحيم عن زاذان أبي عمر أن عليًا كان يفعل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
٧٠٠٣ - حدثنا ابن مهدي عن (سليم) (١) بن حيان عن أبي غالب قال: كان أبو أمامة يوتر بثلاث ركعات (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
٧٠٠٤ - حدثنا عبدة (بن سليمان) (١) عن عثمان بن حكيم عن عثمان بن عروة عن أبيه أنه كان يوتر بخمس لا ينصرف فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ پانچ رکعات وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام نہیں پھیرتے تھے۔
٧٠٠٥ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن المسيب عن أبيه عن عائشة قالت: لا (يوتر) (١) بثلاث بتراء صل (قبلها) (٢) ركعتين أو (أربعًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تین نامکمل وتر نہ پڑھو بلکہ ان سے پہلے دو یا چار رکعتیں پڑھو۔
٧٠٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث قال: سمعت جابر بن زيد [يقول: الوتر ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ وتر تین رکعات پر مشتمل ہیں۔
٧٠٠٧ - حدثنا أبو بكر بن (عياش) (١) عن طلق بن معاوية عن علقمة قال: الوتر ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ وتر تین رکعات پر مشتمل ہیں۔
٧٠٠٨ - حدثنا زيد] (١) بن حباب عن أبي (المنيب) (٢) عن مكحول عن عمر بن الخطاب أنه أوتر بثلاث ركعات لم يفصل بينهن بسلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے تین رکعات وتر پڑھے اور ان کے درمیان سلام نہیں پھیرا۔
٧٠٠٩ - حدثنا هشيم عن العوام قال: (حُدِّثنا) (١) عن إبراهيم التيمي قال: كانوا يكرهون أن يشبهوا الوتر بالمغرب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ اسلاف وتر کی نماز کو مغرب سے تشبیہ دینے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٠١٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يوترون بإحدى عشرة (وبتسع وبسبع) (١) وبخمس وكان يقال: لا وتر بأقل من ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف گیارہ، نو، سات یا پانچ رکعات پڑھتے اور کہا جاتا تھا کہ تین رکعات سے کم وتر نہیں ہیں۔
٧٠١١ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: أجمع المسلمون على أن الوتر ثلاث لا يسلم إلا في (آخرهن) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اہل اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتر تین ہیں، اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرا جائے گا۔
٧٠١٢ - حدثنا زيد بن حباب عن إسماعيل بن عبد الملك عن سعيد بن جبير أنه كان يوتر بثلاث ويقنت في الوتر قبل الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر نے تین رکعات وتر پڑھے اور وتر میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی۔
٧٠١٣ - حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن مكحول أنه كان يوتر بثلاث ⦗٤٩٧⦘ لا يسلم (إلا) (٢) في (آخرهن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول تین رکعات وتر پڑھتے تھے اور آخر میں ہی سلام پھیرتے تھے۔
٧٠١٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: لا يسلم (١) في الركعتين من الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ وتر میں دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا جائے گا۔
٧٠١٥ - حدثنا وكيع عن مسعر عن حماد قال: نهاني إبراهيم أن أسلم في الركعتين من الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے مجھے وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرنے سے منع کیا ہے۔
٧٠١٦ - (حدثنا وكيع عن) (١) زياد بن (أبي) (٢) مسلم قال: سألت أبا العالية و (خِلاسًا) (٣) عن الوتر (فقالا) (٤): (٥) أصنع (فيه) (٦) كما (تصنع) (٧) في المغرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابی مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عالیہ اور حضرت خلاس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وتروں میں اس طرح کرو جس طرح مغرب میں کرتے ہو۔
٧٠١٧ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أنه أوتر (بثلاث) (١) لم يسلم إلا في أخرهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس نے تین رکعات وتر پڑھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرا۔
٧٠١٨ - حدثنا غندر عن شعبة (عن) (١) أبي إسحاق قال: كان أصحاب علي وأصحاب عبد اللَّه لا يسلمون في ركعتي الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ کے شاگرد وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا کرتے تھے۔
٧٠١٩ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن زرارة عن (سعد) (١) بن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ لا يسلم في ركعتي الوتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا کرتے تھے۔
٧٠٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن أبي سلمة أن النبي ﷺ كان يوتر بثلاث (من آخر الليل) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
٧٠٢١ - [حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن (سلم) (١) بن عبد الرحمن عن زاذان أن عليًا كان يوتر بثلاث (من آخر الليل قاعدًا) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
٧٠٢٢ - [حدثنا وكيع عن مسعر وشعبة عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه أنه كان يوتر بثلاث من آخر الليل قاعدًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رات کے آخری حصہ میں بیٹھ کر تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
٧٠٢٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن عطاء ابن (يزيد) (٢) الليثي عن أبي أيوب قال: قال (لي) (٣) رسول اللَّه ﷺ: "أوتر ⦗٤٩٩⦘ بخمس فإن لم تستطع فبثلاث (فإن) (٤) لم تستطع فبواحدة، فإن لم تستطع (فأومئ) (٥) إيماءً" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر پانچ رکعت پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو تین رکعات پڑھ لو اور اگر تین کی بھی طاقت نہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اشارے سے نماز پڑھ لو۔
٧٠٢٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عطاء بن (يزيد) (١) عن أبي أيوب نحوه ولم يرفعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے بھی یونہی منقول ہے لیکن وہ حضرت ابو ایوب کا اپنا قول ہے۔