٦٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (سليمان) (١) التيمي عن ابن سيرين عن أبي هريرة، قال: قال عمر: تصلي المرأة في ثلاثة أثواب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے گی۔
٦٣١١ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن مكحول قال: (سئلت) (١) عائشة في كم تصلي المرأة؟ فقالت: أثبت عليًا فاسأله ثم ارجع (إليّ) (٢)، فأتى ⦗٣٣٩⦘ عليًا فسأله فقال: في درع (سابغ) (٣) وخمار، فرجع إليها فأخبرها، فقالت: صدق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے سوال کرو پھر میرے پاس آؤ۔ وہ سائل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مکمل ڈھانپنے والی قمیص اور ایک دوپٹے میں نماز پڑھے گی۔ سائل نے جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔
٦٣١٢ - حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن إسحاق عن (بكير) (١) (بن) (٢) الأشج عن (عبيد اللَّه) (٣) الخولاني قال: رأيت ميمونة زوج النبي ﷺ تصلي في درع واحد (فضلًا) (٤) وقد وضعت بعض كمها على رأسها قال: وكان عبيد اللَّه (يتيمًا) (٥) في حجرها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ خولانی فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت میمونہ کو ایک ایسی بڑی قمیص میں نماز پڑھتے دیکھا جو ساری کی ساری ان پر لپٹی ہوئی تھی اور انہوں نے آستین کے کچھ حصے کو اپنے سر پر رکھا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ خولانی ایک ییمل بچے کی حیثیت سے حضرت میمونہ کی کفالت میں تھے۔
٦٣١٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن أنس عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأَشَج عن عبيد اللَّه الخولاني عن ميمونة بنت الحارث زوج النبي ﷺ أنها صلت في درع وخمار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ خولانی فرماتے ہیں کہ ام المومنین حضرت میمونہ نے ایک بڑی قمیص اور ایک چادر میں نماز ادا فرمائی۔
٦٣١٤ - حدثنا (١) حفص عن محمد بن زيد قال: حدثتني أمي أنها سألت أم ⦗٣٤٠⦘ سلمة زوج النبي ﷺ (في أي شيء) (٢) تصلي المرأة؟ فقالت: تصلي في درع (سابغ) (٣) يغطي قدميها والخمار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن زید کہتے ہیں کہ میری والدہ نے ام المومنین حضرت ام سلمہ سے سوال کیا کہ عورت کس چیز میں نماز پڑھے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مکمل ڈھانپنے والی چادر میں جو اس کے پاؤں کو بھی ڈھانپ دے اور ایک دوپٹے میں۔
٦٣١٥ - حدثنا وكيع قال: (أخبرنا) (١) (هشام) (٢) بن سعد عن محمد بن (زيد) (٣) (ابن) (٤) مهاجر بن قنفذ عن أمه عن أم سلمة؟ قالت: تصلي المرأة في الدرع (السابغ) (٥) والخمار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ عورت ایک مکمل ڈھانپنے والی چادر اور ایک اوڑھنی میں نماز پڑھے گی۔
٦٣١٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن أم ثور عن زوجها بشر أنه سأل ابن عباس في كم تصلي المرأة؟ فقال: في درع وخمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک قمیص اور ایک چادر میں۔
٦٣١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: إذا صلت المرأة فلتصل في ثيابها كلها الدرع والخمار والملحفة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت اپنے پورے کپڑوں میں نماز پڑھے گی یعنی قمیص، چادر اور اوڑھنی۔
٦٣١٨ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن محمد عن عبيدة قال: تصلي المرأة في الدرع والخمار والحقو.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے فرمایا کہ عورت قمیص، چادر اور ” حقو “ میں نماز پڑھے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اشعث سے پوچھا کہ یہ چادریں کیا ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جو جسم کو ڈھانپ دے وہ چادر ہے۔ میں نے پوچھا یہ ” حقو “ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ انصار ازار کو حقو کہا کرتے تھے۔
٦٣١٩ - قال: أشعث (١) عن محمد مثله، فقلت له: ما هذه الخُمُر؟ فقال: (الخمار) (٢) ما خمر وكانت الأنصار تسمي الإزار الحقو.
٦٣٢٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين، قال: تصلي المرأة في ثلاثة أثواب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے گی۔
٦٣٢١ - (حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو هلال عن ابن سيرين، قال: كان يستحب أن تصلي المرأة في ثلاثة أثواب) (١) في الدرع والخمار والحقو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے تین کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے قمیص چادر ازار۔
٦٣٢٢ - حدثنا (١) أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يرخص للمرأة أن تصلي في الدرع والجلباب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم عورت کو اس بات کی رعایت دیتے تھے کہ وہ قمیص اور چادر میں نماز پڑھ لے۔
٦٣٢٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: قالت امرأة لأبي: إني امرأة حبلى وإنه يشق علي أن أصلي في المنطق، أفأصلي في درع وخمار؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے میرے والد سے کہا کہ میں حاملہ عورت ہوں۔ میرے لئے نطاق (کمر پر باندھا جانے والا ایک بیلٹ) میں نماز پڑھنا مشکل ہے، تو کیا میں قمیص اور چادر میں نماز پڑھ سکتی ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں، پڑھ سکتی ہو۔
٦٣٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو أسامة عن الجريري عن عكرمة قال: تصلي المرأة في درع وخمار (٢) خصيف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ عورت ایک قمیص دوپٹے اور بنی ہوئی چادر میں نماز پڑھے گی۔
٦٣٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام عن قتادة عن جابر بن زيد، قال: تصلي المرأة في درع صفيق وخمار صفيق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ عورت ایک موٹی قمیص اور موٹی چادر میں نماز پڑھے گی۔
٦٣٢٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي، قال: قال عطاء: في درع وخمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت ایک قمیص اور ایک چادر میں نماز پڑھے گی۔
٦٣٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم فقال: في درع وخمار، وسألت حمادًا فقال: تصلي في درع وملحفة تغطي رأسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت حکم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک قمیص اور ایک چادر میں نماز پڑھے گی۔ حضرت حماد سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک قمیص اور ایک اوڑھنی میں جس سے سر کو ڈھانپ لے نماز پڑھے گی۔
٦٣٢٨ - [حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: (١) لا تصلي المرأة في أقل من أربعة أثواب] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ عورت چار کپڑوں سے کم میں نماز نہیں پڑھے گی۔
٦٣٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن (معاذة) (١) عن عائشة أنها قامت تصلي في درع وخمار (فأتتها) (٢) الأمة فالقت عليها ثوبًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک قمیص اور ایک چادر میں نماز پڑھ رہی تھیں کہ ان کی باندی نے آ کر ان پر ایک اور کپڑا ڈال دیا۔