٥٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن عيينة عن معمر عن يحيى عن ضمضم عن أبي هريرة أن النبي ﷺ أمر بقتل الأسودين في الصلاة الحية والعقرب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں دو کالی چیزوں سانپ اور بچھو کو مارا۔
٥٠٦١ - حدثنا معتمر عن برد عن سليمان بن موسى قال: رأى نبي اللَّه ﷺ رجلا يصلي جالسا فقال النبي ﷺ: "لم تصلي جالسا؟ " فقال: إن عقربا لسعتني، قال: "فإذا رأى أحدكم عقربا وإن كان في الصلاة فليأخذ نعله اليسرى فليقتلها بها" (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم بیٹھ کر کیوں نماز پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ مجھے بچھو نے ڈس لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہیں نماز میں بچھو نظر آئے تو اپنی بائیں جوتی پکڑ کر اسے مار دو ۔
٥٠٦٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) عن ابن أبي ليلى أن عليا قتلها وهو في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز میں بچھو کو مارا۔
٥٠٦٣ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار رأى ابن عمر ريشة وهو يصلي فحسب (أنها) (١) عقرب فضربها بنعله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز میں کوئی چیز چلتی ہوئی دیکھی اور اسے بچھو خیال کرتے ہوئے اسے جوتی سے مار ڈالا۔
٥٠٦٤ - حدثنا ابن علية عن (شعبة) (١) عن أبي العالية أنه قتلها وهو يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عالیہ نے دورانِ نماز بچھو کو مار ڈالا۔
٥٠٦٥ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا بقتلها وهو في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دورانِ نماز بچھو کو مارنا جائز ہے۔
٥٠٦٦ - حدثنا معتمر عن (سلم) (١) بن أبي الذيال عن الحسن قال: يقتلها وهو يصلي قال: وقال قتادة: إذا لم (تعرض) (٢) لك فلا تقتلها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دورانِ نماز بچھو کو مارنا جائز ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ تمہاری طرف نہ آئے تو اسے مت مارو۔
٥٠٦٧ - [حدثنا عباد عن حجاج عن عطاء قال: أقتلها وأنت في الصلاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نماز میں بچھو کو مار سکتے ہو۔
٥٠٦٨ - حدثنا عباد (بن العوام) (١) عن حجاج عن فضيل عن إبراهيم أنه قال في العقرب يراها الرجل في الصلاة، قال: صرفها عنك، قلت: فإن أبت (قال: اصرفها عنك قلت: فإن أبت) (٢) قال: (اقتلها) (٣) و (اغسل) (٤) مكانها الذي (قتلتها) (٥) فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل کہتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص نماز میں بچھو کو دیکھے تو اسے دور ہٹا دے۔ میں نے کہا کہ اگر وہ پھر اس کی طرف بڑھے ؟ انہوں نے کہا اسے پھر پیچھے ہٹا دے۔ میں نے کہا اگر وہ پھر اس کی طرف بڑھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے مار دے اور اس کی جگہ کو دھو لے۔
٥٠٦٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن حماد بن سلمة عن قتادة أن مورقا قتلها وهو يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت مورق نے دورانِ نماز بچھو کو مارا۔
٥٠٧٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه سئل عن قتل العقرب في الصلاة (قال) (١): إن في الصلاة لشغلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ ابراہیم سے دورانِ نماز بچھو کو مارنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز کی اپنی مصروفیت ہے۔