کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر تم کیچڑ میں نماز پڑھ رہے ہو تو اشارے سے سجدہ کر لو
٥٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا سفيان (بن) (١) عيينة عن عمرو قال: أخبرني من رأى جابر بن زيد يومئ في ماء وطين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید کیچڑ میں نماز پڑھتے ہوئے اشارے سے سجدہ کیا کرتے تھے۔
٥٠٥٢ - حدثنا حفص عن ليث عن طاوس قال: إذا كان في ماء وطين أومأ إيماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر تم کیچڑ میں نماز پڑھ رہے ہو تو اشارے سے سجدہ کرلو۔
٥٠٥٣ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عامر قال: الذي في الماء والطين يومئ إيماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جو شخص کیچڑ میں نماز پڑھ رہا ہو وہ سجدہ اشارے سے کرے۔
٥٠٥٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن هشام عن الحسن قال: إذا كنت في ماء أو سبخة فأومئ إيماء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر تم کیچڑ میں یا سیم زدہ زمین میں نماز پڑھ رہے ہو تو اشارے سے سجدہ کرلو۔
٥٠٥٥ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد في الرجل تدركه الصلاة في الماء والطين قال: يومئ إيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کیچڑ میں نماز پڑھ رہا ہو تو اشارے سے سجدہ کرلے اور سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا بنائے۔
٥٠٥٦ - حدثنا ابن علية عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير (عن أبي سلمة) (١) عن أبي سعيد الخدري قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ يسجد في الماء والطين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
٥٠٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أنس بن سيرين قال أقبلت مع أنس بن مالك من الكوفة حتى إذا كنا (بأطط) (١) وقد أخذتنا السماء قبل ذلك والأرض (ضحضاح) (٢) فصلى أنس وهو على حمار مستقبل القبلة وأومأ إيماء وجعل السجود أخفض من الركوع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ میں تھا۔ جب ہم مقام أطط میں تھے تو ہمارے وہاں آنے سے پہلے بارش ہوگئی اور زمین پر کیچڑ ہوگیا۔ حضرت انس نے اپنی سواری پر سوار ہو کر قبلہ رخ نماز پڑھی اور سجدہ اشارے سے کیا۔ اور سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا بنایا
٥٠٥٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد اللَّه عن سالم (و) (١) عامر قالا: إذا كنت في ماء وطين لا تجد مكانا تسجد عليه فأومئ برأسك إيماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کیچڑ والی جگہ ہو اور تمہیں سجدہ کرنے کی جگہ نہ ملے تو اشارے سے سجدہ کرلو۔
٥٠٥٩ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم (عن غالب) (١) بن سليمان عن رجل من (حُدّان) (٢) عن جابر بن زيد أنه وقع في ماء وطين فجعل يركع فإذا أراد أن يسجد أومأ فقلت له فقال: يا أحمق أتريد أن أفسد ثيابي.
مولانا محمد اویس سرور
حدان کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید کیچڑ میں نماز پڑھ رہے تھے، وہ رکوع کرتے اور جب سجدہ کرنے لگتے تو سر سے اشارہ کرلیتے۔ میں نے اس پر سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اے بیوقوف ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے کپڑے خراب کرلوں ؟