٥٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا صفوان (بن عيسى) (١) عن الحارث [بن] (٢) عبد الرحمن قال: سألت سليمان (٣) بن يسار (٤) عن النوم في المسجد فقال: كيف تسألون عن هذا وقد كان أهل الصفة ينامون فيه ويصلون فيه (٥)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سوال کیسے کرتے ہو حالانکہ اصحاب صفہ مسجد میں سویا کرتے تھے اور مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
٥٠٠١ - حدثنا الثقفي عن يونس قال: رأيت ابن سيرين ينام في المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
یونس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو مسجد میں سوتے دیکھا ہے۔
٥٠٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان له مسجد يصلي فيه وينام فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کی ایک مسجد تھی جس میں سوتے بھی تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے۔
٥٠٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: كنا ونحن شباب نبيت في عهد رسول اللَّه ﷺ في المسجد ونقيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نوجوان تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں رات بھی گذارتے تھے اور دن کو بھی سوتے تھے۔
٥٠٠٤ - حدثنا جرير عن يزيد عن عطاء قال: قال رجل لابن عباس: إني نمت في المسجد الحرام فاحتلمت فقال: أما (أن) (١) تتخذه مبيتا أو مقيلا فلا وأما أن تنام تستريح أو تنتظر حاجة فلا بأس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں بعض اوقات مسجد میں سوجاتا ہوں اور مجھے احتلام ہوجاتا ہے تو کیا مسجد میں سونا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مسجد کو رات گذارنے اور قیلولہ کرنے کی جگہ بنانا تو جائز نہیں۔ البتہ کچھ دیر کے لیے آرام کرنا یا کسی کام کا انتظار کرنا جائز ہے۔
٥٠٠٥ - حدثنا (١) أبو بكر قال: (أنا) (٢) أسباط (بن) (٣) محمد عن (ليث) (٤) عن عطاء وطاوس ومجاهد أنهم كرهوا النوم في المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد نے مسجد میں سونے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٥٠٠٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أتكره النوم في المسجد؟ قال: بل أحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ مسجد میں سونے کو مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے پسند کرتا ہوں۔
٥٠٠٧ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن أبي الهيثم قال: نهاني مجاهد عن النوم في المساجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہیثم کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے مجھے مسجد میں سونے سے منع فرمایا۔
٥٠٠٨ - حدثنا وكيع عن أيمن بن (نابل) (١) قال: رآني سعيد بن جبير وأنا نائم في الحجر فأيقظني وقال: مثلك ينام هاهنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایمن بن نابل کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے مجھے مسجد میں سویا دیکھا تو جگا دیا اور فرمایا کہ تجھ جیسا آدمی بھی یہاں پڑا سو رہا ہے ؟
٥٠٠٩ - حدثنا وكيع قال حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن (أبي) (١) عمرو الشيباني قال: رأيت ابن مسعود (يعس) (٢) في المسجد ليلا فلا يدع سوادا في المسجد إلا أخرجه إلا رجلا يصلي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود کو ایک رات دیکھا کہ وہ مسجد میں پہرہ دے رہے تھے۔ وہ جہاں کہیں کسی انسان کا سایہ دیکھتے اسے جاکر نکال دیتے البتہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا آپ نے اسے نہیں نکالا۔
٥٠١٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (مغيرة) (١) بن زياد قال: كنت (أنام) (٢) في المسجد الحرام فاحتلم في ليلة مرارا فسألت عطاء فقال: نم (٣) وإن احتلمت عشر مرات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن زیاد کہتے ہیں کہ میں مسجد حرام میں سوجایا کرتا تھا اور وہاں مجھے ایک رات میں کئی مرتبہ احتلام ہوجاتا تھا۔ میں نے اس بارے میں حضرت عطاء سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم مسجد میں سو جایا کرو خواہ تمہیں دس مرتبہ احتلام ہوجائے۔
٥٠١١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إسماعيل بن [أمية] (١) عن المغيرة بن [حكيم] (٢) عن سعيد بن المسيب إنه سئل عن النوم في المسجد فقال: أين كان أهل الصفة، يعني ينامون فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل صفہ کہاں رہتے تھے ؟ یعنی وہ مسجد میں ہی سویا کرتے تھے۔
٥٠١٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابن أبي نجيح قال: نمت في المسجد الحرام فاحتلمت فيه، فسألت سعيد بن جبير، فقال: اذهب (فاغتسل) (١) يعني: ولم ينهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ میں مسجد حرام میں سویا اور مجھے احتلام ہوگیا۔ میں نے اس بارے میں حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جا کر غسل کرلو۔ یعنی انہوں نے مجھے مسجد میں سونے سے منع نہیں کیا۔