کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دوران نماز آدمی کے جسم یا کپڑوں پر خون کا نشان لگا رہ جائے تو وہ کیا کرے؟
٣٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) هشيم قال: أخبرنا خالد ومنصور عن ابن سيرين عن يحيى بن الجزار: أن ابن مسعود صلى وعلى بطنه فرث ودم. قال: فلم يعد الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعودنے نماز پڑھی اور ان کے پیٹ پر لید اور خون کانشان تھا لیکن انہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا۔
٣٩٩٨ - حدثنا هشيم (عن ابن عون) (١) عن ابن سيرين: أنه أمسك عن هذا الحديث بعد ولم يعجبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ یحییٰ نے یہ حدیث بعد میں روایت کرنا چھوڑ دی اور اس کو روایت کرنے کو اچھا (مناسب) نہ سمجھا۔
٣٩٩٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس عن الحسن قال: ما في (نضحات) (١) من دم ما (يفسد) (٢) على رجل صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ خون کے چند چھینٹے اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ آدمی کی نماز فاسد کردیں۔
٤٠٠٠ - [حدثنا وكيع عن (عمرو بن شيبة) (١) عن (قارظ) (٢) أخيه عن سعيد بن المسيب: أنه كان لا ينصرف من الدم حتى يكون مقدار الدرهم] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب صرف اس خون کو ناپاک سمجھتے تھے جو ایک درہم کی مقدار کے برابر ہو۔
٤٠٠١ - (حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم (١) وحمادا فقال الحكم: إذا كان مقدار الدرهم) (٢)، وقال حماد: إذا كان مقدار المثقال، ثم قال: أو الدرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے خون کی ناپاک مقدار کے بارے میں حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا ۔ حضرت حکم نے فرمایا کہ جب وہ ایک درہم کے برابر ہو۔ حضرت حماد نے پہلے فرمایا کہ جب ایک مثقال کے برابر ہو، پھر فرمایا کہ جب ایک درہم کے برابرہو۔
٤٠٠٢ - حدثنا ابن فضيل عن أبي الربيع قال: رأيت مجاهدا في ثوبه دم يصلي فيه أياما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الربیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو ایسے کپڑے میں جن میں خون لگا ہوا تھا دیکھا ہے جس میں انہوں نے کچھ دن نماز پڑھی تھی۔
٤٠٠٣ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن عيسى بن أبي عزة عن الشعبي في رجل صلى وفي ثوبه دم قال: لا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اس شخص کے بارے میں جس نے خون آلود کپڑوں میں نماز پڑھ لی فرماتے ہیں کہ وہ اس نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔
٤٠٠٤ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن عاصم قال: رأيت أبا وائل يصلي وفي ثوبه قطرات من دم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر خون کے قطرے تھے۔
٤٠٠٥ - حدثنا وكيع عن ياسين عن الزهري قال: إذا كان قدر الدرهم أعاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب خون کا نشان درہم کے برابر ہو تو نماز کا اعادہ کرے گا۔
٤٠٠٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول في الدم يكون في الثوب قدر الدينار أو الدرهم قال: فليعد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کپڑوں پر دینار یا درہم کے برابر خون کا نشان ہو تو نماز دوبارہ پڑھی جائے گی۔
٤٠٠٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن إبراهيم قال: سألته عن الرجل (يرى) (١) في ثوبه الدم وهو في الصلاة (فقال) (٢): إن كان كثيرا فليلق الثوب عنه، وإن كان قليلا فليمض في صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نما ز میں اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھے تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا کہ اگر خون زیادہ ہو تو اپنا کپڑا اتار دے اور اگر کم ہو تو نماز پڑھتا رہے۔
٤٠٠٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن عاصم عن أبي قلابة قال: سألته عن الدم أراه في ثوبي بعد ما أصلي قال: اغسله وأعد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ سے سوال کیا کہ اگر میں نماز پڑھنے کے بعد اپنے کپڑوں پر خون کانشان دیکھوں تو کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے دھو لو اور دوبارہ نماز پڑھو۔
٤٠٠٩ - حدثنا معتمر عن أيوب عن أبي معشر عن إبراهيم في رجل صلى وفي ثوبه دم فلما انصرف رآه قال: لا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھے فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔
٤٠١٠ - [حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن قال: إذا صليت فرأيت في ثوبك دما فلا تعد (قد) (١) مضت صلاتك] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھنے کے بعد اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھو تو نماز کا اعادہ نہ کرو، تمہاری نماز ہوگئی۔
٤٠١١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن عطاء: أنه لم يكن يرى في الدم والمني في الثوب أن تعاد منه الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء کی یہ رائے نہیں تھی کہ کپڑے پر منی یا خون کا نشان دیکھنے پر نماز کا اعادہ کیا جائے۔
٤٠١٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن (مطرف) (١) عن الحكم في رجل صلى وفي ثوبه دم قال: إن كان كثيرا يعيد منه (الصلاة) (٢)، وإن كان قليلا لم يعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اس شخص کے بارے میں جو نماز پڑھے اور اس کے کپڑے پر خون کا نشان ہو فرماتے ہیں کہ اگر زیادہ ہو تو نماز کا اعادہ کرے گا اور اگر کم ہو تو اعادہ نہیں کرے گا۔
٤٠١٣ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن عطاء قال: رأيته يصلي وفي ثوبه كف من دم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوا سحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو نماز پڑھتے دیکھا حالانکہ ان کے کپڑوں پر ہتھیلی کے برابر خون لگا ہوا تھا۔