کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی مقیم مسافروں کی جماعت میں داخل ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
٣٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن علي بن زيد عن أبي نضرة عن عمران ابن حصين قال: أقمت مع النبي ﷺ عام الفتح بمكة فأقام ثماني عشرة (ليلة) (١) لا يصلي إلا ركعتين، ثم يقول لأهل البلد: "صلوا أربعا فإنا قوم سفر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے سال مکہ میں قیام پذیر رہا ، آپ نے اٹھارہ راتیں وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران آپ دو رکعات نماز پڑھاتے اور پھر سلام پھیرکر مکہ والوں سے کہتے تھے کہ اپنی چار رکعات پوری کرلو ہم مسافر لوگ ہیں۔
٣٨٩٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر عن عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم اور حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مکہ میں دو رکعتیں پڑھائیں پھر فرمایا کہ ہم مسافر لوگ ہیں تم اپنی نماز پوری کرلو۔
٣٩٠١ - وعن شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عمر: أنه صلى بمكة ركعتين، ثم قال: إنا قوم سفر فأتموا الصلاة (١).
٣٩٠٢ - حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عمر بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٣٩٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن حماد عن عمر بمثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٣٩٠٤ - حدثنا وكيع عن زكريا عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: صليت مع عمر ركعتين بمكة، ثم قال: يا أهل مكة إنا قوم سفر فأتموا الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ مکہ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ نماز کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اے مکہ والو ! ہم مسافر ہیں تم اپنی نماز پوری کرلو۔
٣٩٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔