٣٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) إسماعيل بن علية عن أيوب عن محمد عن عبيدة في القراءة في صلاة النهار (قال) (٢): اسمع نفسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ دن کی نمازوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو سناؤ۔
٣٦٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن (أشعث) (١) عن ابن سيرين عن عبيدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث اور حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ قراءت قرآن کی ادنیٰ مقدار یہ ہے کہ تم اپنے کانوں کو سناؤ۔
٣٦٩٨ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: صليت إلى جنب عبد اللَّه بالنهار فلم أدر أي شيء قرأ حتى انتهى إلى قوله: ﴿رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [طه: ١١٤]، فظننت أنه يقرأ في طه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے ساتھ دن کی ایک نماز پڑھی، مجھے معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں سے تلاوت کررہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے { رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا } کہا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ سورة طہ پڑھ رہے ہیں۔
٣٦٩٩ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: حدثني من صلى خلف ابن مسعود فذكر نحوا من حديث وكيع (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٣٧٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (بشر) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عمر: أنه رأى رجلا يجهر بالقراءة نهارا فدعاه فقال: إن صلاة النهار لا يجهر فيها فأسرَّ قراءتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دیکھا جو دن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کررہا تھا۔ آپ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ دن کی نمازوں میں اونچی آواز سے قراءت نہیں کی جاتی۔ آہستہ آواز سے قراءت کرو۔
٣٧٠١ - حدثنا حفص عن عاصم قال: كان ابن سيرين يتطوع فكنا نسمع قراءته فإذا قام إلى الصلاة خفي علينا ما يقرأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نفلوں میں اتنی آواز سے قراءت کرتے تھے کہ ہمیں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ لیکن جب فرض نماز پڑھتے تو ہمیں ان کی قراءت کی آواز نہیں آتی تھی۔
٣٧٠٢ - حدثنا (معتمر) (١) (عن) (٢) ابن عون قال: كان محمد يتطوع بالنهار فيسمع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد دن کو نفل پڑھتے تو ان کی آواز ہمیں سنائی دیتی تھی۔
٣٧٠٣ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال: صلاة النهار عجماء، وصلاة الليل (تُسمع) (١) أذنيك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دن کی نماز گونگی ہے اور رات کی نماز تمہارے کانوں کو سنائی دینی چاہئے۔
٣٧٠٤ - حدثنا شريك عن عبد الكريم قال: صلى رجل إلى جنب أبي عبيدة فجهر بالقراءة فقال له: إن صلاة النهار عجماء، وصلاة الليل تسمع أذنيك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے بلند آواز سے قراءت کی تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ دن کی نماز گونگی ہے اور رات کی نماز تمہارے کانوں کو سنائی دینی چاہئے۔
٣٧٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن يجهر بالنهار في التطوع إذا كان لا يؤذي أحدا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی کی تکلیف کا اندیشہ نہ ہو تو دن کے وقت نفلوں میں بلند آواز سے تلاوت کی جاسکتی ہے۔
٣٧٠٦ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: (قمت) (١) إلى جنب عبد اللَّه وهو يصلي في المسجد فما علمت أنه يقرأ حتى سمعته (يقول) (٢): ﴿رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ فعلمت أنه يقرأ في سورة طه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ وہ تلاوت کررہے ہیں، لیکن جب انہوں نے { رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا } کہا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ سورة طہ پڑھ رہے ہیں۔
٣٧٠٧ - حدثنا أزهر عن ابن (عون) (١): أن عمر بن عبد العزيز صلى فرفع صوته، فأرسل إليه سعيد: أفتان (أنت) (٢) أيها الرجل؟!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے دن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کی تو حضرت سعید بن مسیب نے انہیں پیغام بھیجا کہ کیا آپ لوگوں کو شک میں ڈالنا چاہتے ہیں ؟ !
٣٧٠٨ - حدثنا وكيع عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال: قالوا: يا رسول اللَّه إن هاهنا (قوم) (١) يجهرون بالقراءة بالنهار فقال: "ارْمُوهُمْ بالْبَعْرِ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مینگنی مارو۔
٣٧٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن الجريري عن (عبد الرحمن) (١) بن أبي عاصم عن ابن أبي ليلى قال: إذا قرأت (فأسمع) (٢) أذنيك، فإن القلب عدل بين اللسان والأذن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ جب تم قراءت کرو تو اپنے کانوں کو سناؤ، کیونکہ دل کان اور زبان کے درمیان واسطہ ہے۔
٣٧١٠ - حدثنا مخلد بن يزيد عن (ابن) (١) جريج عن عطاء عن حكيم ابن عقال: أنه نهى عن رفع الصوت بالقراءة (في النهار، وقال: يرفع بالليل إن شاء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت حکیم بن عقال نے دن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کرنے سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ رات کی نماز میں چاہے تو بلند آواز سے قراءت کرلے۔