٣٦٨٨ - حدثنا حفص بن غياث قال: (نا) (١) ليث عن طاوس قال: من فاته شيء من صلاة الإمام فإن شاء جهر، وإن شاء لم يجهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر جہری نماز میں آدمی کی امام کے ساتھ کوئی رکعت رہ گئی تو اس کو ادا کرتے وقت وہ چاہے تو جہر کرے اور چاہے تو نہ کرے۔
٣٦٨٩ - حدثنا حفص عن أبي العميس قال: قال عمر بن عبد العزيز: (اصنعوا) (١) مثل ما صنع الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ بقیہ نماز کو اسی طرح ادا کرو جس طرح امام ادا کرتا ہے۔
٣٦٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن المغيرة بن حكيم عن عمر بن عبد العزيز نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٣٦٩١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: فاتت (١) عبيد بن عمير ركعة من المغرب فسمعته يقرأ: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [الليل: ١] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ عبید بن عمیر کی مغرب میں ایک رکعت رہ گئی، میں نے انہیں سنا کہ وہ اس رکعت میں سورة اللیل کی تلاوت کررہے تھے۔
٣٦٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن مفضل بن مهلهل عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون لمن سبق ببعض الصلاة في الفجر (أو) (١) المغرب أو العشاء إذا قام يقضي أن يجهر (بالقراءة) (٢) كي يعلم من لا يعلم أن (القراءة) (٣) فيما يقضى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ جس شخص کی فجر، مغرب یا عشاء میں کچھ نماز رہ جائے تو ان کی ادا کرتے ہوئے بلند آواز سے قراءت کرے، تاکہ ناواقف کو علم ہوجائے کہ باقی ماندہ نماز میں قراءت کی جاتی ہے۔
٣٦٩٣ - حدثنا أبو الأحوص عن عاصم عن الحسن في الرجل يصلي المغرب وحده قال: يسمع (قراءته) (١) أذنيه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے بارے میں جو اکیلے مغرب کی نماز پڑھے فرماتے ہیں کہ وہ اپنے کانوں کو اپنی قراءت سنائے گا۔
٣٦٩٤ - حدثنا مروان بن معاوية عن أيوب بن نجيح قال: كنت مع سعيد بن جبير فقمنا إلى المغرب وقد سبقنا بركعة، فلما قام سعيد يقضي قرأ بـ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [التكاثر: ١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایوب بن نجیح کہتے ہیں کہ میں سعید بن جبیر کے ساتھ تھا۔ ہم مغرب کی نماز کے لئے گئے تو ہماری ایک رکعت چھوٹ گئی۔ جب حضرت سعید اس رکعت کو ادا کرنے کھڑے ہوئے تو انہوں نے سورة التکاثر کی تلاوت فرمائی۔