٣٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن جابر بن سمرة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يؤخر العشاء (الآخرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز کو دیر سے پڑھا کرتے تھے۔
٣٣٦٧ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن حبيب بن سالم عن النعمان بن بشير قال: (أنا) (١) من أعلم الناس أو كأعلم الناس بوقت صلاة رسول اللَّه ﷺ العشاء: كان يصليها بعد سقوط القمر ليلة الثانية من أول الشهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عشاء کی نماز کا سب سے زیادہ واقف ہوں، آپ عشاء کی نماز مہینے کے شروع میں دوسری رات کے چاند کے سقوط کے بعد عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
٣٣٦٨ - حدثنا ابن علية عن عوف عن أبي المنهال عن أبي برزة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يستحب أن يؤخر (من) (١) العشاء التي يدعونها الناس العتمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبرزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے۔
٣٣٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعجل العشاء ويؤخر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز کو کبھی جلدی پڑھتے تھے اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
٣٣٧٠ - حدثنا ابن مبارك عن أسامة بن زيد قال: (نا) (١) ابن شهاب عن عروة: أن النبي ﷺ (كان) (٢) يصلي العشاء حين (يسود) (٣) الأفق، وربما أخرها حتى (يجتمع) (٤) الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز کو اس وقت ادا فرماتے تھے جبکہ افق سیاہ ہو جاتا اور بعض اوقات اس کو دیر سے پڑھتے تاکہ لوگ جمع ہو جائیں۔
٣٣٧١ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن عبد اللَّه بن عثمان عن (ابن) (١) (لبيبة) (٢) قال: قال (لي) (٣) أبو هريرة: (صل) (٤) العشاء إذا ذهب الشفق، وأدلام الليل ما بينك وبين ثلث الليل، وما عجلت بعد ذهاب بياض الأفق فهو أفضل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن لبیبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے فرمایا کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھو جب شفق غائب ہو جائے اور آدھی رات سے پہلے رات کی تاریکی زیادہ ہو جائے۔ افق کے سفید ہونے کے بعد تم جتنی جلدی پڑھ لو اتنا ہی افضل ہے۔
٣٣٧٢ - حدثنا وكيع عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه: (أن) (٢) عمر كتب إلى أبي موسى: أن صل العشاء إلى ثلث الليل، فإن أخرت فإلى الشطر، ولا تكن من الغافلين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک ادا کر لو یا زیادہ دیر کرنی ہو تو آدھی رات تک ادا کر لو اور غافلین میں سے مت ہو جانا۔
٣٣٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كان ابن مسعود يؤخر العشاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔
٣٣٧٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: وقت العشاء الآخرة ربع الليل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز کا وقت چوتھائی رات ہے۔
٣٣٧٥ - حدثنا حفص (عن) (١) عمرو بن مروان قال: سألت أبي قلت: صليت مع علي فأخبرني كيف كان يصلي العشاء؛ قال: (كان يصلي العشاء) (٢) إذا غاب الشفق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مروان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ عشاء کی نماز کس وقت پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شفق غائب ہو جاتا۔
٣٣٧٦ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول (قال) (١): وقت العشاء إلى ثلث الليل ولا نوم ولا غفلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عشاء کا وقت ایک تہائی رات تک ہے، اس میں کسی قسم کی نیند یاغفلت نہیں ہے۔
٣٣٧٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن الحكم عن نافع عن ابن عمر قال: انتظرنا ليلة رسول اللَّه ﷺ لصلاة العشاء الآخرة حتى كان ثلث الليل ⦗٢٢٦⦘ أو بعد، ثم خرج إلينا فلا أدري (أشغله شيء) (١) أو حاجة كانت له في أهله فقال: ما أعلم أهل دين ينتظرون (هذه) (٢) الصلاة غيركم، ولولا أن أشق على أمتي لصليت بهم هذه (الصلاة) (٣) هذه الساعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے عشاء کی نماز کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کیا۔ جب تہائی رات یا اس سے کچھ زیادہ وقت گذر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، میں نہیں جانتا کہ آپ کو کسی کام نے روکا تھا یا آپ کو گھر والوں میں کوئی حاجت تھی۔ آپ نے فرمایا ” میں تمہارے علاوہ کسی ایسے دین کے پیروکاروں کو نہیں جانتا جو اس نماز کا انتظار کرتے ہوں۔ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں یہ نماز انہیں اس وقت میں پڑھنے کا حکم دیتا۔
٣٣٧٨ - حدثنا ابن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لولا أن أشق على أمتي لأخرت صلاة العشاء الى ثلث الليل أو نصف الليل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات یا آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔
٣٣٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (حريز) (١) قال: حدثنا (راشد) (٢) ابن سعد عن عاصم بن حميد (السكوني) (٣) وكان من أصحاب معاذ عن معاذ بن جبل قال: (رقبنا) (٤) رسول اللَّه ﷺ في صلاة العشاء حتى أبطأ، حتى قال القائل: قد صلى ولم يخرج، (والقائل يقول: لم يخرج) (٥)، فخرج علينا رسول اللَّه ﷺ، والقائل يقول: يا رسول اللَّه (ظننا) (٦) أنك صليت، ولم تخرج، فقال رسول اللَّه ⦗٢٢٧⦘ ﷺ: "أعتموا (بهذه) (٧) الصلاة فقد فضلتم بها على سائر الأمم، ولم تصلها أمة قبلكم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کر دی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نماز کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
٣٣٨٠ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس قال: أخر رسول اللَّه ﷺ صلاة العشاء ذات ليلة فخرج ورأسه يقطر فقال: "لولا أن أشق على أمتي (لجعلت) (١) وقت هذه الصلاة هذا الحين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا، جب آپ تشریف لائے تو آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اس نماز کے لئے اس وقت کو مقرر کر دیتا۔
٣٣٨١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: (حدثنا) (٢) محمد بن عمرو قال: (حدثنا) (٣) عبد العزيز بن عمرو بن ضمرة عن رجل (من) (٤) جهينة قال: سألت رسول اللَّه ﷺ متى أصلي العشاء؟ قال: "إذا ملأ الليل بطن كل واد" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک جہینی شخص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا کہ جب رات ہر وادی کے اندر تک پہنچ جائے تو اس وقت پڑھو۔
٣٣٨٢ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن عبيد عن أبيه قال: كنا نصلي مع النعمان؛ -يعني: ابن بشير- المغرب، فما يخرج (آخرنا) (١) حتى يبدأ بالعشاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عبید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت نعمان بن بشیر کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کرتے، ہمارا آخری آدمی ابھی مسجد سے باہر نہیں نکلتا تھا کہ عشاء کا وقت ہو جاتا تھا۔
٣٣٨٣ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن إبراهيم (بن) (٢) عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال: قال عمر: عجلوا العشاء قبل أن يكسل العامل وينام المريض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز جلدی پڑھو ، قبل اس کے کہ کام کاج کرنے والا سستی کرنے لگے اور مریض سو جائے۔