٣٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) مروان بن معاوية (عن حميد) (٢) عن أنس قال: كنا نصلي المغرب في مسجد رسول اللَّه ﷺ، ثم (نأتي) (٣) بني سلمة ⦗٢٢٠⦘ وأحدنا يرى موقع نبله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، پھر ہم بنو سلمہ میں آ جاتے اور ہم ایک تیر پھینکنے کی مسافت تک کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
٣٣٥٣ - حدثنا علي بن إسحاق عن ابن مبارك عن الأوزاعي قال: حدثنا أبو النجاشي قال: حدثنا رافع بن خديج قال: كنا نصلي المغرب على عهد رسول اللَّه ﷺ فينصرف أحدنا وإنه لينظر إلى (مواقع) (١) نبله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھ کر گھر واپس آتے تو اتنی روشنی ہوتی تھی کہ ایک تیر پھینکنے کے فاصلے تک کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
٣٣٥٤ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال: قال عمر: صلوا هذه الصلاة والفجاج مسفرة، يعني: المغرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس نماز کو اس وقت پڑھو جبکہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کا کشادہ راستہ روشن ہو۔
٣٣٥٥ - حدثنا (أبو الأحوص) (١) عن طارق عن سعيد بن المسيب قال: كان عمر يكتب إلى أمراء (الأمصار) (٢): أن لا تنتظروا بصلاتكم اشتباك النجوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے گورنروں کو خط لکھا کہ مغرب کی نماز کے لئے ستاروں کے روشن ہونے کا انتظار نہ کرو۔
٣٣٥٦ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن الأسود قال: كان عبد اللَّه يصلي المغرب حين تغرب الشمس، ويقول: هذا -والذي لا إله إلا هو- وقت هذه الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے اور فرماتے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہ اس نماز کا وقت ہے۔
٣٣٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن محمد بن بشر (قال) (١): كان ابن الحنفية يأمر مؤذنه فيؤذن المغرب حين تغرب الشمس سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن بشر فرماتے ہیں کہ ابن الحنفیہ اپنے مؤذن کو اس بات کا حکم دیتے تھے کہ وہ اس وقت مغرب کی اذان دے جب سورج غروب ہو جائے۔
٣٣٥٨ - حدثنا عائذ بن حبيب عن إسماعيل بن (أبي) (١) خالد عن الزبير بن عدي أن: سويد بن غفلة كان يأمر مؤذنه أن يؤذن المغرب إذا غربت الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ اپنے مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی اذان دے دے۔
٣٣٥٩ - حدثنا يعلى بن عبيد عن حجاج الصواف عن عبد اللَّه (الداناج) (١) قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يتناضلون بعد المغرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ داناج کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب مغرب کی نماز کے بعد تیراندازی کیا کرتے تھے۔
٣٣٦٠ - حدثنا معاذ بن معاذ عن حاجب بن عمر قال: كنت أسمع عمي الحكم بن الأعرج يسأل درهما أبا هند عن هذا الحديث فيقول درهم (١): كنت أقبل من السوق فيتلقاني الناس منصرفين قد صلى بهم معقل بن يسار فأتمارى غربت الشمس أو لم تغرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حاجب بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا حکم بن اعرج کو سنا کہ وہ درہم ابو ہند سے اس حدیث کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ درہم نے کہا کہ میں بازار سے آیا تو مجھے کچھ لوگ ملے جو حضرت معقل بن یسار کے پیچھے نماز پڑھ کے واپس جا رہے تھے۔ اس وقت اتنی روشنی تھی کہ مجھے شک ہوا کہ نہ جانے ابھی سورج غروب ہوا ہے یا نہیں ہوا۔
٣٣٦١ - حدثنا حفيص عن أبي العنبس عمرو بن مروان قال: سألت أبي قلت: (قد) (١) صليت مع علي فأخبرني كيف كان يصلي (المغرب) (٢)؛ فقال: كان يصلي المغرب إذا سقط القرص (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوا لعنبس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ مجھے بتائیے کہ وہ مغرب کی نماز کس وقت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج کی ٹکیہ غائب ہو جاتی تھی۔
٣٣٦٢ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن برقان عن الزهري عن رجل أظنه قال: من أبناء النقباء عن أبيه قال: كنا نصلي المغرب مع رسول اللَّه ﷺ، ثم نرجع ⦗٢٢٢⦘ إلى رحالنا وأحدنا يبصر مواقع النبل. قال: قلت للزهري: وكم كانت منازلهم من المدينة؛ قال: ثلثي ميل (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، پھر ہم اپنی سواریوں کی طرف واپس آ جاتے اور ہم تیر پھینکنے کی مسافت کو دیکھ سکتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ ان کے مکانات مدینہ منورہ سے کتنے فاصلے پر تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میل کے دو تہائی کے فاصلہ پر۔
٣٣٦٣ - حدثنا (شبابة قال: نا) (١) ابن أبي ذئب عن صالح (مولى) (٢) التوأمة عن (زيد) (٣) بن خالد قال: كنا نصلي مع رسول اللَّه ﷺ المغرب، ثم ننصرف إلى السوق، ولو رمي بنبل أبصرت مواقعها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد بازار جاتے تھے اور اتنی روشنی ہوتی تھی کہ اگر تیر پھینکا جائے تو اس کے گرنے کی جگہ ہمیں نظر آ سکتی تھی۔
٣٣٦٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (السدي) (١) عن أبي مالك (عن) (٢) مسروق قال: صليت مع عبد اللَّه (المغرب) (٣) (مقدار ما) (٤) إذا رمى (رجل بسهم) (٥) رأى موضعه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے ساتھ مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جبکہ اتنی روشنی تھی کہ اگر کوئی آدمی تیر پھینکے تو اس کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا۔
٣٣٦٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: (حدثنا) (١) ابن أبي ذئب عن (ابن) (٢) أبي (حبيب) (٣): أنه بلغه عن أبي أيوب الأنصاري: أنه سمع رسول اللَّه ﷺ يقول: ⦗٢٢٣⦘ "صلوا المغرب حين (فطر) (٤) الصائم مبادرة طلوع النجوم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب روزہ دار افطار کرتا ہے تو اس وقت مغرب کی نماز پڑھو، جبکہ ستارے طلوع ہو رہے ہوتے ہیں۔