١٩٦٢ - حدثنا هشيم قال: أنا يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت: لأن (أحزهما) (١) بالسكاكين؛ أحب إليّ من أن أمسح عليهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان موزوں کو چھریوں سے کاٹ دوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان پر مسح کروں۔
١٩٦٣ - حدثنا هشيم (١) عن إسماعيل بن سالم قال: خرج مجاهد، وأصحاب له فيهم عبدة بن أبي لبابة قال: خرجوا حجاجا، فكان (عبدة) (٢) يؤمهم في الصلاة قال: فبرز ذات يوم لحاجته، فأبطأ عليهم، فلما جاء قال له مجاهد: ما ⦗٤٠٠⦘ حبسك؟ قال: (إنما) (٣) قضيت حاجتي، ثم توضأت، ومسحت على خفي، فقال له (مجاهد) (٤): تقدم فصل بنا، فما أدري ما حسب صلاتك!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور ان کے کچھ ساتھی جن میں حضرت عبداہ بن ابی لبابہ بھی تھے۔ وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے۔ حضرت عبدہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ رفع حاجت کے لیے گئے، اور بہت دیر کردی۔ جب وہ آئے تو حضرت مجاہد نے ان سے کہا کہ تم نے دیر کیوں کی ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے رفع حاجت کی، پھر میں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ حضرت مجاہد نے فرمایا چلو آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ میں نہیں جانتا کہ تمہاری نماز کے لیے کیا چیز کافی ہے (دھونا یا مسح کرنا ؟ )
١٩٦٤ - حدثنا (١) حاتم بن إسماعيل عن (جعفر) (٢) عن أبيه قال: قال علي: سبق الكتاب الخفين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ موزوں سے پہلے ہے۔
١٩٦٥ - حدثنا علي بن مسهر عن عثمان بن حكيم عن عكرمة عن ابن عباس قال: سبق الكتاب الخفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ موزوں سے پہلے ہے۔
١٩٦٦ - حدثنا ابن علية عن روح بن القاسم عن ابن طاوس عن أبيه قال: قال ابن عباس: لو قالوا ذلك في السفر، والبرد الشديد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسلاف سفر اور شدید سردی میں موزوں پر مسح کے قائل تھے۔
١٩٦٧ - حدثنا ابن فضيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: قال ابن عباس: ما أبالي مسحت على الخفين، أو مسحت على ظهر بختي (١) هذا! (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے لیے موزوں پر مسح کرنا اور اپنے اونٹوں کی پشت پر ہاتھ پھیرنا برابر ہے۔
١٩٦٨ - حدثنا هشيم عن القاسم (بن أبي أيوب) (١) قال: رآني سعيد بن جبير، وأنا أمسح على خفين لي أبيضين، قال: فقال لي: (ما يفسد) (٢) خفيك!
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے دو سفید موزوں پر مسح کر رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم اپنے موزے کیوں خراب کر رہے ہو ؟
١٩٦٩ - حدثنا ابن إدريس عن فطر قال: قلت لعطاء: إن عكرمة يقول: قال ابن عباس: سبق الكتاب الخفين؟ فقال عطاء: كذب عكرمة، أنا رأيت ابن عباس يمسح عليهما! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فطر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ موزوں سے پہلے ہے۔ حضرت عطاء نے کہا حضرت عکرمہ جھوٹ بولتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
١٩٧٠ - حدثنا يونس بن محمد قال: نا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا إسماعيل بن سميع قال: حدثني أبو رزين قال: قال أبو هريرة: ما أبالي على ظهر خفي مسحت، أو على ظهر (حمار) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں موزوں پر مسح کروں یا گدھے کی پشت پر مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
١٩٧١ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا شعبة عن أبي بكر بن (حفص) (٢) قال: سمعت عروة بن الزبير عن عائشة قالت: لأن أحزهما أو أحز أصابعي بالسكين، أحب إليّ من أن أمسح عليهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنی انگلیوں کو یا موزوں کو چھری سے کاٹ دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں ان پر مسح کروں۔
١٩٧٢ - حدثنا جرير عن حصين عن الشعبي قال: المسح على الخفين مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ موزوں پر مسح ایک مرتبہ ہوتا ہے۔
١٩٧٣ - (١) حدثنا أبو أسامة عن أشعث عن الحسن قال: يمسح على الخفين مسحة واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ موزوں پر ایک مرتبہ مسح کیا جائے گا۔
١٩٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن سليمان قال: رأيت إبراهيم توضأ، ومسح على خفيه مرة (واحدة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے وضو کیا اور موزوں پر ایک مرتبہ مسح کیا۔
١٩٧٥ - حدثنا (الحنفي) (١) عن أبي عامر الخزاز (٢) قال: حدثنا الحسن عن المغيرة بن شعبة قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ بال، ثم جاء حتى توضأ، ومسح على خفيه ووضع يده اليمنى على خفه الأيمن، ويده اليسرى على خفه الأيسر، ثم مسح أعلاهما مسحة واحدة، حتى كأني انظر إلى أصابع رسول اللَّه ﷺ على الخفين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا، پھر موزوں پر اس طرح مسح کیا کہ دائیں ہاتھ کو دائیں موزے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں موزے پر رکھا پھر اوپر کی طرف ایک مرتبہ مسح کیا گویا کہ آپ کے موزے پر انگلیوں کے نشانات اب بھی میرے سامنے ہیں۔