٦٣٣ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن الزهري عن عبيد اللَّه بن ⦗١٢٧⦘ عبد اللَّه يذكره عن النبي ﷺ قال: "تمضمضوا من اللبن؛ فإن له دسما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دودھ پی کر کلی کرلیا کرو کیونکہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔
٦٣٤ - [حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن ابن عباس عن النبي ﷺ: (بمثله) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔
٦٣٥ - حدثنا خالد بن مخلد عن موسى بن يعقوب (الزمعي) (١) قال: (أنبأني) (٢) (أبو عبيدة) (٣) بن عبد اللَّه بن (زمعة) (٤) عن أبيه عن أم سلمة زوج النبي ﷺ قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا شربتم اللبن فمضمضوا منه، فإن له دسمًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم دودھ پیو تو کلی کرلیا کرو کیونکہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔
٦٣٦ - حدثنا ابن عيينة وإسماعيل بن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين أن أنس بن مالك والحارث الهمداني: كانا يمضمضان من اللبن ثلاثًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث ہمدانی دودھ پی کر تین مرتبہ کلی کرتے تھے۔
٦٣٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر الخطمي عن محمد بن كعب عن عبد اللَّه بن يزيد قال: كان يشرب اللبن، فيمضمض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید دودھ پی کر کلی کیا کرتے تھے۔
٦٣٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من هذيل -أراه: قد ذكر أن له صحبة- قال: يمضمض من اللبن، ولا يمضمض من التمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک ہذیلی صحابی فرماتے ہیں کہ اگر دودھ پیا تو کلی کرے گا اور اگر کھجور کھائی تو کلی کی ضرورت نہیں۔
٦٣٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: من أكل لحما أو شرب لبنا؛ فليمضمض إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ گوشت کھانے کے بعد اور دودھ پینے کے بعد اگر چاہے تو کلی کرلے۔
٦٤٠ - حدثنا عبدة عن عاصم عن الحسن: أنه كان يأمر بالمضمضة من اللبن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن دودھ پینے کے بعد کلی کا حکم دیا کرتے تھے۔
٦٤١ - حدثنا ابن علية عن هشام بن حسان: أن (أبا موسى) (١) وأنسا والحارث الهمداني كانوا يمضمضون من اللبن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ ، حضرت انس اور حارث ہمدانی دودھ پی کر کلی کیا کرتے تھے۔
٦٤٢ - حدثنا عبلى اللَّه بن نمير قال: أخبرنا عثمان بن حكيم عن عباد بن عبد اللَّه ابن الزبير عن أبي سعيد قال: لا وضوء إلا من اللبن؛ لأنه يخرج من بين فرث ودم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ دودھ پی کر وضو کرنا لازم ہے کیونکہ یہ خون اور لید کے درمیان سے نکلتا ہے۔
٦٤٣ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم عن عبد الرحمن الأعرج قال: سمعت أبا هريرة يقول: لا وضوء إلا من اللبن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ صرف دودھ پینے سے وضو لازم ہے۔
٦٤٤ - حدثنا وكيع عن ابن عون قال سألت القاسم عن المضمضة أو الوضوء من اللبن؟ فقال: لا أعلم به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے دودھ پینے کے بعد کلی یا وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٦٤٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يزيد الشيباني قال: سمعت عبد الملك بن ميسرة عن ابن (واثلة) (١): أن حذيفة دعا بلبن، فشرب وشربت، ثم دعا بماء، فتمضمض وتمضمضت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن واثلہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوایا، انہوں نے بھی پیا اور میں نے بھی پیا، پھر انہوں نے پانی منگوایا جس سے انہوں نے بھی کلی کی اور میں نے بھی کلی کی۔