کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر وضو یا غسل کرتے وقت آدمی کے جسم کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
٤٤٧ - حدثنا هشيم وابن علية ومعتمر عن إسحاق بن سويد العدوي قال: حدثنا العلاء بن زياد قال: اغتسل رسول اللَّه ﷺ من جنابة، فخرج، فأبصر لمعة بمنكبه لم يصبها الماء، فأخذ بجمته، فبلها به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن زیاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا۔ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے کندھے پر خشکی کا نشان دیکھا۔ پھر آپ نے اپنے بال پکڑے اور ان سے اس حصے کو تر کرلیا۔
٤٤٨ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن: أن النبي ﷺ رأى رجلا ترك من قدمه موضع ظفر، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "أحسن وضوءك"؛ قال يونس: (فكان) (١) الحسن (يقول) (٢): يغسل ذلك المكان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے پاؤں میں ناخن کی جگہ خشک ہے، آپ نے اس سے فرمایا ” اچھی طرح وضو کرو “ حسن ایسی صورت میں فرمایا کرتے تھے کہ صرف اسی جگہ کو دھویا جائے گا۔
٤٤٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن (عطاء) (١) عن عبيد بن عمير: أن عمر بن الخطاب رأى رجلا في رجله لمعة لم يصبها الماء حين (تطهر) (٢)، ⦗٩٣⦘ فقال له عمر: بهذا الوضوء تحضر الصلاة؛ وأمره أن يغسل اللمعة ويعيد الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک آدمی کو دیکھا جس کا پاؤں وضو کرتے وقت ایک جگہ سے خشک رہ گیا تھا، آپ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم اس وضو کے ساتھ نماز پڑھو گے۔ پھر اسے حکم دیا کہ اس خشک جگہ کو دھو کر نماز پڑھے۔
٤٥٠ - حدثنا ابن علية عن خالد عن (أبي قلابة) (١) أن عمر رأى رجلا يصلي قد ترك على ظهر قدمه مثل الظفر، فأمره أن يعيد وضوءه وصلاته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا لیکن اس کے پاؤں پر ایک جگہ ناخن کے برابر خشک تھی۔ آپ نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
٤٥١ - حدثنا هشيم عن العوام عن إبراهيم النخعي قال: ما أصابه الماء من مواضع الطهور، فقد طهر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جن مقامات وضو تک پانی پہنچتا ہے وہ پاک ہوجاتے ہیں۔
٤٥٢ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن زيد بن أسلم قال سمعت علي بن حسين يقول: ما أصاب الماء منك وأنت جنب، فقد طهر ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین فرماتے ہیں کہ حالت جنابت میں تمہارے جسم کے جس حصہ تک پانی پہنچے گا وہ حصہ پاک ہوجائے گا۔
٤٥٣ - حدثنا معن (بن عيسى) (١) عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه توضأ يومًا، فترك في مرفقه شيئا (يسيرا) (٢) فقيل له في ذلك؟ فغسل ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ سالم بن عبد اللہ ایک دن وضو فرما رہے تھے کہ ان کی کہنی کے پاس تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی۔ انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے وہ جگہ بھی دھو لی۔
٤٥٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ليث عن طاوس: في الرجل (يغتسل) (١)، فيبقى منه المكان قال: إذن يمسه الماء (أو يغسله) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اس جگہ کو دھو لے یا اسے پانی سے تر کرلے۔
٤٥٥ - حدثنا ابن مهدي عن شعبة عن مغيرة عن إبراهيم: مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
٤٥٦ - حدثنا حرمي بن عمارة عن شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن أبي مجلز قال: يغسل ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ اس جگہ کو دھوئے گا۔
٤٥٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (أبي سفيان) (١) عن جابر: أن عمر (٢) رأى في قدم رجل مثل موضع الفلس لم يصبه الماء، فأمره أن يعيد الوضوء، ويعيد الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاؤں پر سکے کے برابر جگہ خشک تھی۔ آپ نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
٤٥٨ - حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: يغسل ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صرف اسی جگہ کو دھوئے گا۔
٤٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا (مستلم) (١) بن سعيد عن أبي علي (الرحبي) (٢) عن عكرمة عن ابن عباس: أن النبي ﷺ اغتسل من جنابة، فرأى لمعة (لم يصبها الماء) (٣) فقال بجمته، فبلها به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل جنابت فرمانے کے بعد ایک خشک جگہ دیکھی جسے پانی نہ پہنچا تھا، آپ نے اپنے بالوں کو پکڑ کر اس جگہ کو تر کرلیا۔
٤٦٠ - حدثنا أسباط عن عبد الملك عن عطاء قال: يغسل ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ صرف اسی جگہ کو دھویا جائے گا۔