١٧٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: رأيت عكرمة يمسح على رجليه، وكان يقول به.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ کو پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ اسی کے قائل تھے۔
١٧٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن: أنه كان يقول: (إنما هو المسح على القدمين)، (وكان) (١) يقول: يمسح ظاهرهما وباطنهما.
مولانا محمد اویس سرور
یونس کہتے ہیں کہ حسن بصری کہا کرتے تھے کہ پاؤں پر مسح کیا جا سکتا ہے اور مسح پاؤں کے باطنی اور ظاہری دونوں حصوں پر کیا جائے گا۔
١٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) بن دينار عن عكرمة قال: غسلتان ومسحتان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ دونوں پاؤں دھوئے بھی جا سکتے ہیں اور ان پر مسح بھی کیا جا سکتا ہے۔
١٨١ - حدثنا ابن علية عن داود عن الشعبي قال: إنما هو المسح على القدمين؛ ألا ترى أن ما كان عليه الغسل جعل عليه التيمم، وما كان عليه المسح أهمل، فلم يجعل عليه التيمم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ پاؤں پر مسح کرنا جائز ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جن اعضاء کو وضو میں دھونا فرض تھا انہیں تیمم میں باقی رکھا گیا اور جن اعضاء کا مسح تھا تیمم میں انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔
١٨٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن حميد قال: كان أنس إذا مسح على قدميه بلهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس جب پاؤں کا مسح کرتے تو انہیں تر کر لیا کرتے تھے۔
١٨٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبد خير عن علي قال: لو كان الدين (برأي) (١)؛ كان باطن القدمين أحق بالمسح من ظاهرهما، ولكن رأيت رسول اللَّه ﷺ مسح ظاهرهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر دین میں عقل کا عمل دخل ہوتا تو پاؤں کے ظاہری حصہ کے بجائے اس کے اندرونی حصہ پر مسح کیا جاتا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاؤں کے ظاہری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
١٨٤ - حدثنا ابن علية عن مالك بن مغول عن زبيد اليامي عن الشعبي قال: نزل جبريل بالمسح على القدمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ جبرئیل پاؤں پر مسح کرنے کا حکم لائے ہیں۔
١٨٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: نزل جبريل بالمسح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ جبرئیل پاؤں پر مسح کرنے کا حکم لائے ہیں۔