کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ: أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى مَ تَدَعُنَّ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي الْقُسْطَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ. قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَهَا بَالَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ "
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا، جو ان پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے ایک ایسے بیٹے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، اور انہوں نے اس کے گلے کے غدود کی وجہ سے اس کا حلق دبایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کو اس طرح حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ اس ہندی لکڑی، یعنی قسط، کو استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ (ذات الجنب) بھی ہے۔“ عبیداللہ کہتے ہیں: پھر ام قیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ ﷺ نے پانی منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا «دَخَلَتْ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک ایسے بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ پر پیشاب کر دیا، آپ ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٌ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: «أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَتْهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبَهِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں اور اسے آپ ﷺ کی گود میں بٹھا دیا، تو اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ سَمْعَانَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا «جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ عَلَيْهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، نبی کریم ﷺ کے پاس لائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ ﷺ پر پیشاب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا «أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ ﷺ پر پیشاب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَ تَدْعُونَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي الْقُسْطَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَهَا بَالَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ "
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو، جس کا حلق انہوں نے گلے کے غدود کی وجہ سے دبایا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کو اس طرح حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ اس ہندی لکڑی، یعنی قسط، کو استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ (ذات الجنب) بھی ہے۔“ عبیداللہ کہتے ہیں: ام قیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: «دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي لَمْ يَطْعِمِ الطَّعَامَ، فَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبَهِ، فَأَمَرَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور میرے ساتھ میرا ایک ایسا بیٹا تھا جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَنْبَسَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي الْقُسْطَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا، سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن، جو ان پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم پر لازم ہے کہ اس ہندی لکڑی، یعنی قسط، کو استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ (ذات الجنب) بھی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْشِيٍّ الْفرغاني، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَدِّي، خَالُ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ رَاشِدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَجَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبَهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اپنے ایک ایسے بیٹے کو، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی، تو آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
قَالَ الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا «أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، فَبَالَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا، جو ان پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک ایسے بیٹے کو، جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں، تو اس نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس کے پیشاب پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔