حدیث نمبر: 21907
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاحِيَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا سَعْدُ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا نَافِعٌ مَوْلَى حَمْنَةَ بِنْتِ شُجَاعٍ قَالَتْ: قَالَتْ لِي أُمُّ قَيْسٍ: " لَوْ رَأَيْتَنِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذٌ بِيَدِي فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، مَا فِيهَا بَيْتٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي: يَا أُمَّ قَيْسٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: لَتَرَيِنَّ هَذِهِ الْمَقْبَرَةَ يَبْعَثُ اللهُ مِنْهَا سَبْعِينَ أَلْفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: وَأَنْتَ. فَقَامَ آخِرُ، فَقَالَ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ "
ترجمہ

نافع، حمنہ بنت شجاع کے آزاد کردہ غلام، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: کاش تم مجھے اس وقت دیکھتے جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، اس گلی میں کوئی گھر نہیں تھا، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع غرقد پہنچے۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ام قیس!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عنقریب دیکھو گی کہ اللہ اس قبرستان سے قیامت کے دن ستر ہزار افراد کو اٹھائے گا، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے، وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ اتنے میں سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: کیا میں بھی، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم بھی۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: کیا میں بھی، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہلے یہ مانگ چکا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21907
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 181، حدیث 445