حدیث نمبر: 21897
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ: أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى مَ تَدَعُنَّ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي الْقُسْطَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ. قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَهَا بَالَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ "
ترجمہ

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا، جو ان پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے ایک ایسے بیٹے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، اور انہوں نے اس کے گلے کے غدود کی وجہ سے اس کا حلق دبایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کو اس طرح حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ اس ہندی لکڑی، یعنی قسط، کو استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ (ذات الجنب) بھی ہے۔“ عبیداللہ کہتے ہیں: پھر ام قیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ ﷺ نے پانی منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے دھویا نہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21897
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 177، حدیث 435