المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن أم قيس باب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَ تَدْعُونَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي الْقُسْطَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَهَا بَالَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ "ترجمہ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو، جس کا حلق انہوں نے گلے کے غدود کی وجہ سے دبایا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کو اس طرح حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ اس ہندی لکڑی، یعنی قسط، کو استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ (ذات الجنب) بھی ہے۔“ عبیداللہ کہتے ہیں: ام قیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے دھویا نہیں۔