کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا، سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی
❮
❯
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ، مَوْلَاةِ سَعْدٍ، قَالَتْ: " أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَ مِرَارًا، فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ فَرَجَعَ، فَقَالَ سَعْدٌ: ائْتِي رَسُولَ اللهِ، فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَأَخْبِرِيهِ إِنَّمَا سَكَتْنَا عَنْهُ أَنْ يَزِيدَنَا فَأَتَيْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَ شَيْءٌ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: " مَنْ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ فَقَالَ: «لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا»
ترجمہ
سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا، سعد رضی اللہ عنہ کی باندی، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور کئی بار اجازت طلب کی، مگر آپ ﷺ کو جواب نہ دیا گیا تو آپ ﷺ واپس چلے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ، انہیں سلام کہو، اور انہیں بتاؤ کہ ہم نے صرف اس لیے خاموشی اختیار کی کہ وہ ہمیں مزید (سلام) دیں۔ چنانچہ میں ان کے پاس آئی۔ میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک کوئی چیز آئی اور دروازے پر اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ام مِلدَم (بخار) ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ خوش آمدید اور نہ خیرمقدم۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21810
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 144، حدیث 348
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ، مَوْلَاةِ سَعْدٍ، قَالَتْ: " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ عَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي سَعْدٌ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ إِلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْتِ؟» ، فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ، فَقَالَ: " لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا أَتُهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا، سعد رضی اللہ عنہ کی باندی، کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور اجازت طلب کی، تو سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ اجازت طلب کی تو سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے، تو نبی کریم ﷺ واپس چلے گئے۔ وہ کہتی ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ ﷺ کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ہمیں آپ کو اجازت دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا، سوائے اس کے کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں مزید (سلام) عطا فرمائیں۔ وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر ایک آواز سنی جو اجازت مانگ رہی تھی، مگر مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: میں ام مِلدَم (بخار) ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ خوش آمدید اور نہ خیرمقدم، کیا تم اہلِ قباء کی طرف تحفہ لے کر جا رہی ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف چلی جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21811
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 144، حدیث 349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ، مَوْلَاةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَتْ: " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَسَكَتَ قَالَتْ: فَنَدِمَ سَعْدٌ فَقَالَ لِي: ائْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبِرِيهِ أَنَّا سَكَتْنَا عَنْهُ رَجَاءَ أَنْ يَزِيدَنَا، قَالَتْ: فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ أَسْمَعُ صَوْتَهُ وَلَا أَرَاهُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: «أَنْتِ، فَلَا مَرْحَبًا بِكِ وَلَا أَهْلًا»
ترجمہ
سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی باندی، کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور سلام کیا، تو انہوں نے جواب نہ دیا اور خاموش رہے۔ وہ کہتی ہیں: تو سعد رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی اور انہوں نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو بتاؤ کہ ہم نے اس امید پر خاموشی اختیار کی کہ آپ ﷺ ہمیں مزید (سلام) دیں۔ وہ (راویہ) کہتی ہیں: وہ آیا اور دروازے پر سلام کیا، میں اس کی آواز سن رہی تھی مگر اسے دیکھ نہیں رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا ہو؟“ اس نے کہا: میں ام مِلدَم (بخار) ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ہی ہو! تو نہ خوش آمدید اور نہ خیرمقدم۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21812
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 145، حدیث 350