❮
❯
حدیث نمبر: 21811
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ، مَوْلَاةِ سَعْدٍ، قَالَتْ: " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ عَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي سَعْدٌ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ إِلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْتِ؟» ، فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ، فَقَالَ: " لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا أَتُهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ»
ترجمہ

سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا، سعد رضی اللہ عنہ کی باندی، کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور اجازت طلب کی، تو سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ اجازت طلب کی تو سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے، تو نبی کریم ﷺ واپس چلے گئے۔ وہ کہتی ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ ﷺ کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ہمیں آپ کو اجازت دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا، سوائے اس کے کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں مزید (سلام) عطا فرمائیں۔ وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر ایک آواز سنی جو اجازت مانگ رہی تھی، مگر مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: میں ام مِلدَم (بخار) ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ خوش آمدید اور نہ خیرمقدم، کیا تم اہلِ قباء کی طرف تحفہ لے کر جا رہی ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف چلی جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21811
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 144، حدیث 349