المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب من يعرف من النساء بالكنى لمن لم ينته إلينا أسماؤهن ممن لهن صحبة فمنهن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط امرأة عبد الرحمن بن عوف — باب باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — باب
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بَخَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا؟» قَالُوا: بَلَى، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: «رَجُلٌ آخِذٌ بِعَنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُغِيرَ أَوْ يُغَارَ عَلَيْهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَهُ رَجُلًا؟» قَالُوا: بَلَى فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحِجَازِ، فَقَالَ: «رَجٌلٌ فِي غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، يَعْلَمُ مَا حَقُّ اللهِ فِي مَالِهِ، قَدِ اعْتَزَلَ النَّاسَ»… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے، حملہ کرنے یا اس پر حملہ ہونے کا انتظار کر رہا ہو۔ کیا میں تمہیں اس کے بعد سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے حجاز کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”وہ آدمی جو اپنی بکریوں میں رہتے ہوئے نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، اور جانتا ہو کہ اس کے مال میں اللہ کا کیا حق ہے، اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہو۔“