حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: وَقَدْ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَوَاتٍ، كُنَّا نَقُومُ عَلَى الْكَلْمَى، وَنُدَاوِي الْجَرْحَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِحْدَانَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَالَتْ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُخْرِجْنَ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتَ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا ثَوْبٌ؟ قَالَ: تُلْبِسُهَا أُخْتُهَا مِنْ ثَوْبِهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: … ہم زخمیوں کے پاس کھڑی ہوتیں اور ان کا علاج کرتیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ نکل سکتی ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جوان کنواری لڑکیاں اور پردہ نشین عورتیں اور حیض والی عورتیں بھی نکلیں، تاکہ وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنے کپڑے میں سے اسے پہنا دے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَهِشَامٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّهَا، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: «نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتَ الْخُدُورِ» ، فَقِيلَ: وَالْحُيَّضُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، يَشْهَدْنُ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا ثَوْبٌ. قَالَ: «لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”جوان کنواری لڑکیاں اور پردہ نشین عورتیں نکلیں“۔ پوچھا گیا: اور حیض والی عورتیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ بھی بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے پہنا دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: «نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتَ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ» ، فَقِيلَ: وَالْحُيَّضُ؟ فَقَالَ: «يَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ» ، قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ تَكُنْ لِإِحْدَانَا ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: «تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”عید کے دن جوان کنواری لڑکیاں اور پردہ نشین عورتیں نکلیں“۔ پوچھا گیا: اور حیض والی عورتیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی ساتھی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے پہنا دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُخْرِجُ الْأَبْكَارَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ، فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ جِلْبَابٌ؟ قَالَ: فَلْتُعِرْهَا أُخْتُهَا مِنْ جَلَابِيبِهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کے موقع پر کنواری لڑکیوں، جوان لڑکیوں، پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالتے تھے، البتہ حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہتیں مگر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتیں۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا: اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنی چادروں میں سے ایک اسے مستعار دے دے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ: وُنُخْرِجُ الْحُيَّضَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلْنَ صَلَاتِهِمْ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیا گیا، ہم حیض والی عورتوں، جوان کنواری لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو بھی نکالتے، البتہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوتیں مگر نماز سے الگ رہتیں۔
حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا حَيْدُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو حَيْدَرَةَ، ثنا صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كُنَّا «نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ ذَوَاتَ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ مُصَلًّى الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں عیدین میں پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالنے کا حکم دیا جاتا تھا، البتہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی عید گاہ میں شریک ہوتیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو مَحْذُورَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ مُصَلًّى الْمُسْلِمِينَ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید کے دن جوان کنواری لڑکیوں، پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالیں، البتہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی عید گاہ میں شریک ہوتیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ ذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ يَشْهَدْنَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ دَعْوَتَهُمْ وَصَلَاتُهُمْ وَتَعْتَزِلَ الْحُيَّضُ الصَّلَاةَ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالیں، وہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی دعا اور نماز میں شریک ہوتیں، البتہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہتیں۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَذَكَرْتُ بَيْعَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ، غَيْرُ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ وَامْرَأَةُ مُعَاذِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: … اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کا ذکر کیا، تو کہا: ہم میں سے کسی عورت نے اسے پورا نہیں کیا سوائے ام سلیم، ام کلثوم اور معاذ بن ابی سبرہ کی بیوی کے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: «أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ، فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا يَنُحْنَ، فَمَا وَفَّى مِنْهُنَّ، إِلَّا فُلَانَةُ وَفُلَانَةُ وَأُمُّ فُلَانٍ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے جو عہد لیا اس میں یہ بھی تھا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو ان میں سے کسی نے اسے پورا نہیں کیا سوائے فلانہ، فلانہ اور فلاں کی والدہ کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر سختی سے پابندی نہیں لگائی گئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر سختی سے پابندی نہیں لگائی گئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: «كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا جاتا تھا، لیکن ہم پر سختی سے پابندی نہیں لگائی گئی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر سختی سے پابندی نہیں لگائی گئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا نُصَيْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کے سوا کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «أُمِرْنَا أَنْ لَا، نَلْبَسَ فِي الْإِحْدَادِ الثِّيَابَ الْمُصَبَّغَةَ، إِلَّا الْعَصْبَ، وَأُمْرِنَا أَنْ لَا نُحِدَّ عَلَى هَالِكٍ، أَوْ قَالَتْ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا الزَّوْجَ، وَأُمِرْنَا أَنْ لَا نَمَسَّ طِيبًا، إِلَّا أَدْنَاهُ للطُّهْرِ الْكُسْتَ وَالْأَظْفَارَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم سوگ میں رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنیں سوائے عصب (دھاری دار یمنی کپڑے) کے، اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم کسی فوت شدہ یا مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائیں سوائے شوہر کے، اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم خوشبو نہ لگائیں سوائے طہر کے وقت تھوڑی سی قسط اور اظفار (خوشبودار جڑی بوٹیاں) کے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: تُوُفِّيَ ابْنٌ لِأُمِّ عَطِيَّةَ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثِ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَتَمَسَّحَتْ بِهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا «نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»
ترجمہ
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہوا، تو جب تیسرا دن ہوا تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے اوپر مل لیا، اور فرمایا: ہمیں شوہر کے سوا کسی مرنے والے پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منانے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «لَمْ نَكُنْ نَرَى الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم زرد اور مٹیالے رنگ کی رطوبت کو (حیض کے بعد) کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ الْقَافَلَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ، مَنْ لَا يُصِيبُ أَنْفَهُ الْأَرْضَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جس کی ناک زمین کو نہ لگے۔“