حدیث نمبر: 21564
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: وَقَدْ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَوَاتٍ، كُنَّا نَقُومُ عَلَى الْكَلْمَى، وَنُدَاوِي الْجَرْحَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِحْدَانَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَالَتْ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُخْرِجْنَ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتَ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا ثَوْبٌ؟ قَالَ: تُلْبِسُهَا أُخْتُهَا مِنْ ثَوْبِهَا "ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: … ہم زخمیوں کے پاس کھڑی ہوتیں اور ان کا علاج کرتیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ نکل سکتی ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جوان کنواری لڑکیاں اور پردہ نشین عورتیں اور حیض والی عورتیں بھی نکلیں، تاکہ وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنے کپڑے میں سے اسے پہنا دے۔“