المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمير مولى أم الفضل، عن أم الفضل باب: عمیر، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 21497
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ: " نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ بِعَرَفَةَ "ترجمہ
سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا، کچھ نے کہا وہ روزے سے ہیں، اور کچھ نے کہا روزے سے نہیں ہیں۔ تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ ﷺ اپنے اونٹ پر کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے عرفہ میں وہ دودھ پی لیا۔