حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالَتْ: وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَدْعُونَ يَوْمَ الرُّوسِ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَا أَدْرِي لِعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ» فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ
ترجمہ
سیدہ سَرّاء بنت نبہان رضی اللہ عنہا، جو دورِ جاہلیت میں ایک گھرانے کی سربراہ تھیں، بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے سنا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ — یہ وہ دن تھا جسے تم یومِ رؤوس کہتے ہو — لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مشعرِ حرام ہے۔“ پھر فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم، شاید میں اس کے بعد تم سے دوبارہ نہ ملوں۔ خبردار! تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں حرام ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے۔ خبردار! جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک یہ بات پہنچا دے۔ خبردار! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟“ پھر جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو تھوڑے ہی عرصے بعد آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا شَاكِيَةُ بِنْتُ الْجَعْدِ، عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ، قَالَتْ: احْتَفَرَ الْحَيُّ فِي دَارِ كِلَابٍ فَأَصَابُوا كَنْزًا عَادِيًّا فَقَالَ كِلَابٌ: دَارُنَا، وَقَالَ الْحَيُّ: احْتَفَرْنا، فَنَافَرُوهُمْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى بِهِ لِلْحَيِّ وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْخُمُسَ فَاشْتَرَيْنَا بِنَصِيبِنا مِنْ ذَلِكَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، فَأَتَيْنَا بِهَا الْحَيَّ فَأَرَادَ الْمُصَّدِّقُ أَنْ يُصْدِقَنا فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ، وَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا مَعَ غَيْرِهَا وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْعَامِ» وَقَالَ: «إِنَّ الْمُصَّدِّقَ إِذَا انْصَرَفَ عَنِ الْقَوْمِ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَإِذَا انْصَرَفَ وَهُوَ عَلَيْهِمْ سَاخِطٌ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدہ سَرّاء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قبیلے کے لوگوں نے (بنو) کلاب کی زمین میں کھدائی کی تو انہیں ایک بہت پرانا خزانہ ملا۔ کلاب نے کہا: یہ ہماری زمین ہے، اور قبیلے والوں نے کہا: کھدائی ہم نے کی ہے۔ چنانچہ وہ یہ جھگڑا نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے، تو آپ ﷺ نے اس کا فیصلہ قبیلے والوں کے حق میں کیا اور ان سے خمس لے لیا۔ پھر ہم نے اس میں سے اپنے حصے کے بدلے سو اونٹ خریدے اور انہیں قبیلے میں لے آئے، تو زکاۃ وصول کرنے والے نے ہم سے اس پر زکاۃ لینا چاہی، ہم نے انکار کر دیا، اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے دوسرے جانوروں کے ساتھ ملا دیا تھا (تو زکاۃ ہے)، ورنہ اس سال تم پر کچھ لازم نہیں۔“ اور فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے والا جب لوگوں سے اس حال میں رخصت ہو کہ وہ ان سے راضی ہو، تو اللہ بھی ان سے راضی ہوتا ہے، اور جب اس حال میں رخصت ہو کہ وہ ان پر ناراض ہو، تو اللہ بھی ان پر ناراض ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا شَاكِيَةُ بِنْتُ الْجَعْدِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَرَّاءَ بِنْتَ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةَ، تَقُولُ: سَأَلَ نُصَيْبٌ غُلَامُنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَيَّاتِ، مَا يَقْتُلُ مِنْهَا؟ قَالَتْ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اقْتُلُوا مَا ظَهْرَ مِنْهَا كَبِيرَها وصَغِيرَها، أَسْوَدَها وأَبْيَضَها فَإِنَّ مَنْ قَتَلَهَا مِنْ أُمَّتِي كَانَتْ فِدَاءً لَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ قَتَلَتْهُ كَانَ شَهِيدًا»
ترجمہ
راوی کہتی ہیں: میں نے سیدہ سَرّاء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا: ہمارے غلام نُصَیب نے نبی کریم ﷺ سے سانپوں کے بارے میں پوچھا کہ ان میں سے کن کو مارا جائے؟ تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو بھی کھلے عام نظر آئے اسے مار دو، چھوٹا ہو یا بڑا، کالا ہو یا سفید، کیونکہ میری امت میں سے جو اسے مار ڈالے وہ اس کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا سبب بنے گا، اور جسے وہ سانپ مار ڈالے وہ شہید ہو گا۔“