المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سراء بنت نبهان الغنوية باب: سیدہ سراء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21149
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا شَاكِيَةُ بِنْتُ الْجَعْدِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَرَّاءَ بِنْتَ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةَ، تَقُولُ: سَأَلَ نُصَيْبٌ غُلَامُنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَيَّاتِ، مَا يَقْتُلُ مِنْهَا؟ قَالَتْ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اقْتُلُوا مَا ظَهْرَ مِنْهَا كَبِيرَها وصَغِيرَها، أَسْوَدَها وأَبْيَضَها فَإِنَّ مَنْ قَتَلَهَا مِنْ أُمَّتِي كَانَتْ فِدَاءً لَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ قَتَلَتْهُ كَانَ شَهِيدًا»ترجمہ
راوی کہتی ہیں: میں نے سیدہ سَرّاء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا: ہمارے غلام نُصَیب نے نبی کریم ﷺ سے سانپوں کے بارے میں پوچھا کہ ان میں سے کن کو مارا جائے؟ تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو بھی کھلے عام نظر آئے اسے مار دو، چھوٹا ہو یا بڑا، کالا ہو یا سفید، کیونکہ میری امت میں سے جو اسے مار ڈالے وہ اس کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا سبب بنے گا، اور جسے وہ سانپ مار ڈالے وہ شہید ہو گا۔“