المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سلامة بنت معقل الخزاعية باب: سیدہ سلامہ بنت معقل خزاعیہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أُمِّهِ سَلَّامَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ، قَالَتْ: قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو فَاسْتَسَرَنِي، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، وَكَانَ إِذَا كَانَ الرَّبِيعُ عَطَّلُوا النَّخْلَ مِنَ السَّقِيِّ، فَيَبْعَثُونَ بِنَوَاضِحِهِمْ، فَكَانَ يَبْعَثُنِي بِناضِحِهِ، فَرُبَّمَا مَكَثْتُ شَهْرَيْنِ أَرْعَاهُ، وَرُبَّمَا تَمَادَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى أَعْتَمَ عَلَيْهِ، فَخَرَجْتُ عَامًا مِنْ تِلْكَ الْأَعْوامِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ فَتُوُفِّيَ خَلْفِي، وَتَرَكَ دَيْنًا فَلَمَّا قَدِمْتُ، قَالَتْ لِيَ امْرَأَتُهُ: الْآنَ وَاللهِ تُبَاعِينَ يَا سَلَّامَةُ فِي الدَّيْنِ، فَقُلْتُ: إِنْ كَانَ اللهُ قَضَى ذَلِكَ عَلِيَّ احْتَسَبْتُ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: «مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ؟» قَالُوا: أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو، فَدُعِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَيْنَا فَائْتُونِي أُعَوِّضُكُمْ مِنْهَا» فَأَعْتَقُوهَا وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيقٌ فَدَعَا أَبَا الْيُسْرِ فَقَالَ: «خُذْ مِنْ هَذَا الرَّقِيقِ غُلَامًا لِابْنِ أَخِيكَ» فَانْطَلَقَ فَأَخَذَ غُلَامًا ضَعِيفًا سَقِيمًا، وَتَرَكَ أَشِدَّاءَ أقوياءَ، فَقُلْتُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنَ الْأقْوِياءِ؟ فَقَالَ: خِفْتُهُمْ وَاللهِ عَلَى ابْنِ أَخِي، فَمَا لَبِثَ أَنْ مَاتَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثْتُ رَبِيعَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: «وَاللهِ مَا أَعْتَقَهُمْ عُمَرُ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ»سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جاہلیت میں میرا چچا مجھے (مدینہ) لایا اور حُباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، تو انہوں نے مجھے اپنی لونڈی (سُرِّیہ) بنا لیا، اور میں نے ان سے عبدالرحمٰن بن حباب کو جنا۔ اور جب بہار کا موسم آتا تو لوگ کھجور کے درختوں کو پانی دینا چھوڑ دیتے اور اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ (چرنے کے لیے) بھیج دیتے، تو وہ مجھے اپنے اونٹ کے ساتھ بھیج دیتے، بعض اوقات میں دو مہینے اسے چراتی رہتی، اور بعض اوقات اس کے ساتھ اتنی دیر ٹھہری رہتی کہ رات کا اندھیرا ہو جاتا۔ ان سالوں میں سے ایک سال میں حسبِ معمول نکلی تو میرے پیچھے ان کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے قرض چھوڑا۔ جب میں واپس آئی تو ان کی بیوی نے مجھ سے کہا: اے سلامہ! اللہ کی قسم، اب تمہیں قرض کی وجہ سے بیچ دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اگر اللہ نے میرے لیے یہ فیصلہ کیا ہے تو میں اجر کی امید رکھوں گی۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کو اپنا معاملہ بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حُباب کے ترکے کا مالک کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، اور جب تمہیں معلوم ہو کہ ہمارے پاس کچھ غلام آئے ہیں تو میرے پاس آ جانا، میں تمہیں اس کے بدلے دوں گا۔“ چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے تو آپ ﷺ نے ابوالیسر کو بلایا اور فرمایا: ”اپنے بھتیجے کے لیے ان غلاموں میں سے ایک لڑکا لے لو۔“ وہ گئے تو ایک کمزور اور بیمار لڑکا لے لیا، اور طاقتور، تندرست لڑکوں کو چھوڑ دیا۔ میں نے کہا: تمہیں طاقتور لڑکوں میں سے لینے سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، مجھے اپنے بھتیجے کے حق میں ان سے خطرہ محسوس ہوا۔ چنانچہ وہ بھتیجا جلد ہی فوت ہو گیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی حدیث کی بنیاد پر آزاد کیا تھا۔