المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سراء بنت نبهان الغنوية باب: سیدہ سراء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا شَاكِيَةُ بِنْتُ الْجَعْدِ، عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ، قَالَتْ: احْتَفَرَ الْحَيُّ فِي دَارِ كِلَابٍ فَأَصَابُوا كَنْزًا عَادِيًّا فَقَالَ كِلَابٌ: دَارُنَا، وَقَالَ الْحَيُّ: احْتَفَرْنا، فَنَافَرُوهُمْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى بِهِ لِلْحَيِّ وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْخُمُسَ فَاشْتَرَيْنَا بِنَصِيبِنا مِنْ ذَلِكَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، فَأَتَيْنَا بِهَا الْحَيَّ فَأَرَادَ الْمُصَّدِّقُ أَنْ يُصْدِقَنا فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ، وَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا مَعَ غَيْرِهَا وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْعَامِ» وَقَالَ: «إِنَّ الْمُصَّدِّقَ إِذَا انْصَرَفَ عَنِ الْقَوْمِ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَإِذَا انْصَرَفَ وَهُوَ عَلَيْهِمْ سَاخِطٌ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِمْ»سیدہ سَرّاء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قبیلے کے لوگوں نے (بنو) کلاب کی زمین میں کھدائی کی تو انہیں ایک بہت پرانا خزانہ ملا۔ کلاب نے کہا: یہ ہماری زمین ہے، اور قبیلے والوں نے کہا: کھدائی ہم نے کی ہے۔ چنانچہ وہ یہ جھگڑا نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے، تو آپ ﷺ نے اس کا فیصلہ قبیلے والوں کے حق میں کیا اور ان سے خمس لے لیا۔ پھر ہم نے اس میں سے اپنے حصے کے بدلے سو اونٹ خریدے اور انہیں قبیلے میں لے آئے، تو زکاۃ وصول کرنے والے نے ہم سے اس پر زکاۃ لینا چاہی، ہم نے انکار کر دیا، اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے دوسرے جانوروں کے ساتھ ملا دیا تھا (تو زکاۃ ہے)، ورنہ اس سال تم پر کچھ لازم نہیں۔“ اور فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے والا جب لوگوں سے اس حال میں رخصت ہو کہ وہ ان سے راضی ہو، تو اللہ بھی ان سے راضی ہوتا ہے، اور جب اس حال میں رخصت ہو کہ وہ ان پر ناراض ہو، تو اللہ بھی ان پر ناراض ہوتا ہے۔“