المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سراء بنت نبهان الغنوية باب: سیدہ سراء بنت نبہان غنویہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالَتْ: وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَدْعُونَ يَوْمَ الرُّوسِ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَا أَدْرِي لِعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ» فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَسیدہ سَرّاء بنت نبہان رضی اللہ عنہا، جو دورِ جاہلیت میں ایک گھرانے کی سربراہ تھیں، بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے سنا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ — یہ وہ دن تھا جسے تم یومِ رؤوس کہتے ہو — لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مشعرِ حرام ہے۔“ پھر فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم، شاید میں اس کے بعد تم سے دوبارہ نہ ملوں۔ خبردار! تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں حرام ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے۔ خبردار! جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک یہ بات پہنچا دے۔ خبردار! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟“ پھر جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو تھوڑے ہی عرصے بعد آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔