کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: لیث بن ابی سلیم کی شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: «وَيْلَ أُمِّكُمْ قُرَيْشُ لِإِيلَافِكُمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے سنا: ”تباہی ہو تمہاری ماں کی، اے قریش! تمہاری جاڑے اور گرمی کے سفر کی چاہت کے سبب۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: «إِنِّي لَآخُذٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ الْمَائدَةُ فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ عُنُقَ النَّاقَةِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی عضباء کی نکیل پکڑے ہوئے تھی کہ آپ ﷺ پر سورۃ المائدہ نازل ہوئی، تو اس کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کی گردن ٹوٹ جائے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: «نَزَلَتِ الْأَنْعَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُمْلَةً وَاحِدَةً، وَأَنَا آخِذَةٌ بِزِمَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ كَانَتْ مِنْ ثِقَلِهَا لَتَكْسِرُ عَظْمَ النَّاقَةِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سورۃ الانعام نبی کریم ﷺ پر ایک ہی بار میں مکمل نازل ہوئی، اور میں نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھی، اس کے بوجھ سے اونٹنی کی ہڈی ٹوٹنے کے قریب تھی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيَّ خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، وَسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يَخْتِمُكِ اللهُ بِخَاتَمٍ مِنْ نَارٍ، ويُسَوِّرُكِ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟» فَتَرَكْتُهُ، وَقَالَ: «أَتَعْجَزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ فَتَلْطَخُ عَلَيْهَا مِنَ الزَّعْفَرَانِ وَالْعَنْبَرِ وَالْوَرْسِ؟»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں اور سونے کا کنگن تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تمہیں آگ کی انگوٹھی اور آگ کا کنگن پہنائے؟“ تو میں نے اسے اتار دیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی چاندی کا چھلا بنا کر اس پر زعفران، عنبر اور ورس مَل نہیں سکتی؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْقَوْمَ فَشَرِبُوا، فَمَرَّ الْإِنَاءُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: «إِنِّي صَائِمٌ» ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّهُ لَا يُفْطِرُ إِنَّهُ يَصُومُ كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم ایک دن نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ ایک مشروب لایا گیا، آپ ﷺ نے پیا، پھر لوگوں کو دیا تو انہوں نے پیا، پھر برتن ایک شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، بعض لوگوں نے کہا: یہ روزہ افطار نہیں کرتا، یہ ہر روز روزہ رکھتا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمیشہ روزہ رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَصُومُ الدَّهْرَ فَقَالَ: «لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مشروب لایا گیا تو وہ لوگوں میں گھمایا گیا اور ان میں ایک روزہ دار شخص بھی تھا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمیشہ روزہ رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمیشہ روزہ رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔“