المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ليث بن أبي سليم، عن شهر بن حوشب، عن أسماء باب: لیث بن ابی سلیم کی شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيَّ خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، وَسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يَخْتِمُكِ اللهُ بِخَاتَمٍ مِنْ نَارٍ، ويُسَوِّرُكِ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟» فَتَرَكْتُهُ، وَقَالَ: «أَتَعْجَزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ فَتَلْطَخُ عَلَيْهَا مِنَ الزَّعْفَرَانِ وَالْعَنْبَرِ وَالْوَرْسِ؟»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں اور سونے کا کنگن تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تمہیں آگ کی انگوٹھی اور آگ کا کنگن پہنائے؟“ تو میں نے اسے اتار دیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی چاندی کا چھلا بنا کر اس پر زعفران، عنبر اور ورس مَل نہیں سکتی؟“