کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: عباد بن عبداللہ بن زبیر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، فَقَالَ: «يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ رَاكِبٍ» ، أَوْ قَالَ: «وَيَسِيرُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةُ رَاكِبٍ فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی ایک شاخ کے سائے میں سو سوار سایہ حاصل کرتے ہیں“، یا فرمایا: ”اور اس کی ایک شاخ کے سائے میں سو سوار چلتے ہیں، اس میں سونے کے پروانے ہیں، گویا اس کے پھل مٹکوں کی طرح بڑے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20605
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 87، حدیث 234
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ - أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ - فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ» ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَةُ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَتْ: وَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَوَضَعْتُهَا فِي كَوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ: ضَعْ أَنْتَ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا الْمَالَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ: إِذَا كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ قَالَتْ: فَلَا وَاللهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسَكِّنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کے لیے نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ پانچ ہزار درہم - یا چھ ہزار درہم - لے کر روانہ ہوئے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر ہمارے دادا ابوقحافہ ہمارے پاس آئے، اور ان کی بینائی جا چکی تھی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ اس (ابوبکر) نے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنا مال بھی لے جا کر تمہیں غمزدہ کر دیا ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، اے ابا جان! انہوں نے ہمارے لیے بہت سا خیر چھوڑا ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اور میں نے کچھ پتھر لے کر گھر کے اس طاق میں رکھ دیے جہاں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے، پھر اس پر ایک کپڑا ڈال دیا، پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: کوئی حرج نہیں اگر اس نے یہ مال تمہارے لیے چھوڑا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: اگر اس نے یہ تمہارے لیے چھوڑا ہے تو اس نے اچھا کیا، اور اس میں تمہارے لیے کفایت ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن میں چاہتی تھی کہ بزرگ کو اس بات سے تسلی دے دوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20606
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 88، حدیث 235
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لَابْنِةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ: أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِريني عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، قَالَتْ: فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ مَاذَا تَرَى؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَتْ: ذَاكَ يَا بُنَيَّ الْوَازِعُ - يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ - فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، قَالَتْ: وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ، قَالَتْ: وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَاقْتَلَعَهَا مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ، فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ وَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ» ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتَهُ، قَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكَ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ قَلِيلَةٌ
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں ٹھہرے تو ابوقحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی اولاد میں سے اپنی ایک بیٹی سے کہا: اے بیٹی! مجھے ابوقبیس (پہاڑ) پر چڑھا دو۔ وہ کہتی ہیں: اور ان کی بینائی جا چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں: میں انہیں لے کر اس پر چڑھی تو انہوں نے کہا: اے بیٹی! تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا: مجھے ایک اکٹھی سیاہی (بڑا مجمع) نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ گھڑ سوار ہیں۔ اس نے کہا: اور مجھے ایک آدمی نظر آ رہا ہے جو اس سیاہی کے درمیان آگے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: اے بیٹی! وہ وازع ہے - یعنی جو گھڑ سواروں کو حکم دیتا ہے - اب مجھے جلدی سے میرے گھر لے چلو۔ وہ کہتی ہیں: ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گھڑ سوار ان سے آ ملے۔ وہ کہتی ہیں: اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا، ایک آدمی اس سے ملا اور اس کی گردن سے اسے نوچ لیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے آپ ﷺ کے پاس لائے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تم نے بزرگ کو ان کے گھر میں کیوں نہ چھوڑا کہ میں خود ان کے پاس آتا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی طرف چل کر آئیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر ان کا سینہ ملا اور فرمایا: ”اسلام لے آؤ۔“ اور ان کا سر سفیدی میں ثغامہ (ایک سفید پودا) کی مانند تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے بالوں کی یہ رنگت بدل دو۔“ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنی بہن کا ہار مانگتا ہوں، تو کسی نے جواب نہ دیا، تو کہا: اے میری چھوٹی بہن! اپنے ہار کا اجر اللہ کے ہاں شمار کر لو (یعنی اسے واپسی کی امید نہ رکھو)، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری بہت کم رہ گئی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20607
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 88، حدیث 236
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20608
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 88، حدیث 237
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي قُحَافَةَ: «أَسْلِمْ تَسْلَمْ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس دن فتح مکہ ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے ابوقحافہ سے فرمایا: ”اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20609
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 90، حدیث 238
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلْنَا وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ غُلَامَهُ، وَكَانَتْ رَاحِلَتُنَا وَرَاحِلَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً، فَطَلَعَ الْغُلَامُ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَتْ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَسِمُ وَيَقُولُ: «انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُجْرِمِ مَا يَفْعَلُ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا اور ہمارے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب ہم عرج میں تھے تو ہم نے پڑاؤ کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پہلو میں تھیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر اپنے غلام کا انتظار کرنے لگے، اور ہماری اور رسول اللہ ﷺ کی سواری ایک ہی تھی۔ پھر غلام آیا اور اس کے ساتھ اس کا اونٹ نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں نے کل رات اسے گم کر دیا۔ وہ کہتی ہیں: ایک ہی اونٹ اور تم اسے بھی گم کر دیتے ہو! پھر وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) اسے مارنے لگے، جبکہ رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اس مجرم کو دیکھو کیا کر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20610
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 90، حدیث 239