حدیث نمبر: 20606
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ - أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ - فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ» ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَةُ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَتْ: وَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَوَضَعْتُهَا فِي كَوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ: ضَعْ أَنْتَ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا الْمَالَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ: إِذَا كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ قَالَتْ: فَلَا وَاللهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسَكِّنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اپنے پوتے کے واسطے سے بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کے لیے نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ پانچ ہزار درہم - یا چھ ہزار درہم - لے کر روانہ ہوئے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر ہمارے دادا ابوقحافہ ہمارے پاس آئے، اور ان کی بینائی جا چکی تھی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ اس (ابوبکر) نے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنا مال بھی لے جا کر تمہیں غمزدہ کر دیا ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، اے ابا جان! انہوں نے ہمارے لیے بہت سا خیر چھوڑا ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اور میں نے کچھ پتھر لے کر گھر کے اس طاق میں رکھ دیے جہاں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے، پھر اس پر ایک کپڑا ڈال دیا، پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: کوئی حرج نہیں اگر اس نے یہ مال تمہارے لیے چھوڑا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: اگر اس نے یہ تمہارے لیے چھوڑا ہے تو اس نے اچھا کیا، اور اس میں تمہارے لیے کفایت ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن میں چاہتی تھی کہ بزرگ کو اس بات سے تسلی دے دوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20606
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 88، حدیث 235