المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أسماء باب: عباد بن عبداللہ بن زبیر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لَابْنِةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ: أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِريني عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، قَالَتْ: فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ مَاذَا تَرَى؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَتْ: ذَاكَ يَا بُنَيَّ الْوَازِعُ - يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ - فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، قَالَتْ: وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ، قَالَتْ: وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَاقْتَلَعَهَا مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ، فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ وَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ» ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتَهُ، قَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكَ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ قَلِيلَةٌسیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں ٹھہرے تو ابوقحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی اولاد میں سے اپنی ایک بیٹی سے کہا: اے بیٹی! مجھے ابوقبیس (پہاڑ) پر چڑھا دو۔ وہ کہتی ہیں: اور ان کی بینائی جا چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں: میں انہیں لے کر اس پر چڑھی تو انہوں نے کہا: اے بیٹی! تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا: مجھے ایک اکٹھی سیاہی (بڑا مجمع) نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ گھڑ سوار ہیں۔ اس نے کہا: اور مجھے ایک آدمی نظر آ رہا ہے جو اس سیاہی کے درمیان آگے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: اے بیٹی! وہ وازع ہے - یعنی جو گھڑ سواروں کو حکم دیتا ہے - اب مجھے جلدی سے میرے گھر لے چلو۔ وہ کہتی ہیں: ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گھڑ سوار ان سے آ ملے۔ وہ کہتی ہیں: اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا، ایک آدمی اس سے ملا اور اس کی گردن سے اسے نوچ لیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے آپ ﷺ کے پاس لائے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تم نے بزرگ کو ان کے گھر میں کیوں نہ چھوڑا کہ میں خود ان کے پاس آتا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی طرف چل کر آئیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر ان کا سینہ ملا اور فرمایا: ”اسلام لے آؤ۔“ اور ان کا سر سفیدی میں ثغامہ (ایک سفید پودا) کی مانند تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے بالوں کی یہ رنگت بدل دو۔“ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنی بہن کا ہار مانگتا ہوں، تو کسی نے جواب نہ دیا، تو کہا: اے میری چھوٹی بہن! اپنے ہار کا اجر اللہ کے ہاں شمار کر لو (یعنی اسے واپسی کی امید نہ رکھو)، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری بہت کم رہ گئی ہے۔