المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو بكر بن عبد الله بن الزبير، عن أسماء باب: ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20604
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدَّتِهِ، فَمَا أَدْرِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتُ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: «مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّةُ مِنَ الْحَجِّ؟» فَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ، قَالَ: «فَاحْرِمِي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي»ترجمہ
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں - البتہ مجھے یقین نہیں کہ وہ اسماء بنت ابی بکر تھیں یا سعدیٰ بنت عوف - کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے پھوپھی! آپ کو حج سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے سفر کے دوران رک جانے کا خدشہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو احرام باندھ لو اور یہ شرط رکھ لو کہ میرا حلال ہونا وہیں ہوگا جہاں تم مجھے روک لو۔“