❮
❯
حدیث نمبر: 20610
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلْنَا وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ غُلَامَهُ، وَكَانَتْ رَاحِلَتُنَا وَرَاحِلَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً، فَطَلَعَ الْغُلَامُ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَتْ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَسِمُ وَيَقُولُ: «انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُجْرِمِ مَا يَفْعَلُ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا اور ہمارے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب ہم عرج میں تھے تو ہم نے پڑاؤ کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پہلو میں تھیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر اپنے غلام کا انتظار کرنے لگے، اور ہماری اور رسول اللہ ﷺ کی سواری ایک ہی تھی۔ پھر غلام آیا اور اس کے ساتھ اس کا اونٹ نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں نے کل رات اسے گم کر دیا۔ وہ کہتی ہیں: ایک ہی اونٹ اور تم اسے بھی گم کر دیتے ہو! پھر وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) اسے مارنے لگے، جبکہ رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اس مجرم کو دیکھو کیا کر رہا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20610
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 90، حدیث 239