کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: مجاہد کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَيَجِيئُهُ نَاسٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُجَهَّزُ لَهُمْ جَيْشًا مِنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، فَيَأْتِيهِمْ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ، وَيَنْشُو رَجُلٌ بِالشَّامِ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيُجَهِّزُ إِلَيْهِمْ جَيْشًا، فَيَهْزِمُهُمُ اللهُ، وَتَكُونُ الدَّائِرَةُ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ يَوْمُ كَلْبٍ، وَالْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ، وَيَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ، وَيَقْسِمُ الْأَمْوَالَ، وَيُلْقَى الْإِسْلَامُ بِجِرَابِهِ إِلَى الْأَرْضِ، يَعِيشُ فِي ذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ سِتَّ سِنِينَ» . قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ لَيْثًا، فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ مُجَاهِدٌ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک خلیفہ کی وفات کے وقت اختلاف پیدا ہو گا، تو بنو ہاشم میں سے ایک شخص مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے گا، پھر لوگ اس کے پاس آئیں گے اور رکن اور مقام کے درمیان اس کی بیعت کریں گے، حالانکہ وہ خود اسے ناپسند کرے گا۔ پھر ان کے خلاف شام سے ایک لشکر تیار کیا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر عراق کے جتھے اور شام کے ابدال اس کے پاس آ جائیں گے، اور شام میں ایک شخص اٹھے گا جس کے ننہال کلب قبیلے میں ہوں گے، وہ ان کے خلاف ایک لشکر تیار کرے گا، تو اللہ انہیں شکست دے گا، اور شکست انہی پر ہو گی، اور یہ کلب کا دن کہلائے گا، اور محروم وہی ہو گا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہے۔ اور وہ خزانے نکالے گا اور مال تقسیم کرے گا، اور اسلام اپنا بوریا بستر زمین پر پھیلا دے گا، وہ اسی حال میں سات سال یا چھ سال زندہ رہے گا۔“
عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث لیث کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث مجاہد نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20233
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 390، حدیث 931
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفُكُّ الْعَانِيَ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَذِكْرِهَا وَجَمَالِهَا، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہشام بن مغیرہ کھانا کھلاتا، مہمان نوازی کرتا، صلہ رحمی کرتا اور قیدی چھڑاتا تھا، اگر وہ آپ کا زمانہ پاتا تو اسلام لے آتا، تو کیا اسے اس کا کوئی اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارا چچا دنیا، اس کے تذکرے اور اس کی زیبائش کے لیے دیتا تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ! مجھے روزِ جزا بخش دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20234
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 391، حدیث 932
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَحِيضُ وَمَا لَهَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّ إِحْدَانَا الْيَوْمَ لَتُفْرِغُ خَادِمَهَا لِتَغْسِلَ ثِيَابَهَا لِيُطَهِّرَهَا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا حالانکہ اس کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا تھا، اور آج ہم میں سے کوئی اپنی خادمہ کو صرف اس لیے فارغ کرتی ہے کہ وہ اس کے کپڑے دھو کر پاک کر دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20235
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 391، حدیث 933
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سُئِلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ هَلْ تُغَطِّي الْمَرْأَةُ وَجْهَهَا وَهِيَ مُحْرِمَةٌ؟، فَقَالَتْ: «كَانَ الرَّكْبُ يَمُرُّونَ عَلَيْنَا، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَسْدُلُ إِحْدَانَا عَلَى وَجْهِهَا الثَّوْبَ»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا احرام کی حالت میں عورت اپنا چہرہ ڈھانپ سکتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”سوار ہمارے پاس سے گزرتے تھے جبکہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، تو ہم میں سے کوئی اپنے چہرے پر کپڑا لٹکا لیتی تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20236
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 391، حدیث 934