کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن حارث بن نوفل کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْطَلَقَتْ مَعَ الرَّسُولِ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهَا، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ فِي بَيْتِي يَتَوَضَّأُ لِلظُّهْرِ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَقَدْ كَانَ يُهِمُّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضَرَبَ الْبَابُ فَخَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَسَمَ مَا جَاءَ بِهِ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي، أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ»
ترجمہ
عبداللہ بن حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف اپنا قاصد بھیجا، تو وہ قاصد کے ساتھ چلیں، اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا، یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتوں سے۔ نبی کریم ﷺ ایک دن میرے گھر میں ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ ﷺ نے ایک زکوٰۃ وصول کرنے والا بھیجا ہوا تھا اور آپ ﷺ کے پاس مہاجرین موجود تھے اور آپ ﷺ کو ان کا معاملہ فکرمند کیے ہوئے تھا کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹایا گیا، تو آپ ﷺ باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آئے اور جو کچھ مال آیا تھا اسے تقسیم کیا، اور اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”ساعی (زکوٰۃ وصول کرنے والے) کے معاملے نے مجھے مشغول کر دیا کہ میں یہ دو رکعتیں ظہر کے بعد پڑھتا، تو میں نے یہ عصر کے بعد پڑھ لیں۔“
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ، فَيَغْزُوَهُمْ جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، ثُمَّ يَغْزُوهُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَلْتَقُونَ فَيَهْزِمُهُمُ اللهُ» . " فَكَانَ يُقَالُ: الْخَائِبُ، مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ایک شخص کی بیعت اہلِ بدر کی تعداد کے برابر لوگ کریں گے، تو اس کے پاس عراق کے جتھے اور شام کے ابدال (نیک لوگ) آئیں گے، پھر شام کی طرف سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے چڑھائی کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر قریش کا ایک شخص جس کے ننہال کلب قبیلے میں ہوں گے ان سے جنگ کرے گا، تو دونوں کا آمنا سامنا ہو گا اور اللہ انہیں شکست دے گا۔“ چنانچہ کہا جاتا تھا: محروم وہی ہے جو کلب کی غنیمت سے محروم رہے۔