المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
مجاهد، عن أم سلمة باب: مجاہد کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20234
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفُكُّ الْعَانِيَ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَذِكْرِهَا وَجَمَالِهَا، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہشام بن مغیرہ کھانا کھلاتا، مہمان نوازی کرتا، صلہ رحمی کرتا اور قیدی چھڑاتا تھا، اگر وہ آپ کا زمانہ پاتا تو اسلام لے آتا، تو کیا اسے اس کا کوئی اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارا چچا دنیا، اس کے تذکرے اور اس کی زیبائش کے لیے دیتا تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ! مجھے روزِ جزا بخش دے۔“